انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 266 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 266

انوار العلوم جلد ۱۸ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد بعض اور دوست بھی ہمارے اس سبق میں شریک تھے۔حافظ صاحب کی عادت تھی کہ وہ بات بات پر بال کی کھال ادھیڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ابھی ہم نے بخاری کا سبق شروع ہی کیا تھا اور صرف دو چارسبق ہی ہوئے تھے کہ حضرت خلیفہ اول ان کے سوالوں سے تنگ آ گئے۔وہ سبق کو چلنے ہی نہیں دیتے تھے پہلے ایک اعتراض کرتے اور جب حضرت خلیفہ اول اس کا جواب دیتے تو وہ اس جواب پر اعتراض کر دیتے۔پھر جواب دیتے تو جواب الجواب پر اعتراض کر دیتے اور اس طرح اُن کے سوالات کا ایک لمبا سلسلہ شروع ہو جاتا۔کہتے ہیں خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔میری عمر اُس وقت ہیں اکیس سال کی تھی اور طبیعت بھی تیز تھی۔حافظ صاحب کو سوالات کرتے دیکھا تو میں نے خیال کیا کہ میں کیوں پیچھے رہوں۔چنانچہ چوتھے دن میں نے بھی سوالات شروع کر دیئے۔ایک دن تو حضرت خلیفہ اول چپ رہے مگر دوسرے دن جب میں نے بعض سوالات کئے تو آپ نے فرمایا حافظ صاحب کے لئے سوالات کرنے جائز ہیں تمہارے لئے نہیں۔پھر آپ نے فرمایا۔دیکھو! تم بڑی مدت سے مجھ سے ملنے والے ہو اور تم میری طبیعت سے اچھی طرح واقف ہو کیا تم کہہ سکتے ہو کہ میں بخیل ہوں یا کوئی علم میرے پاس ایسا ہے جسے میں چھپا کر رکھتا ہوں؟ میں نے کبھی کوئی بات دوسروں سے چھپا کر نہیں رکھی جو کچھ آتا ہے وہ بتا دیا کرتا ہوں۔اب خواہ تم کتنے اعتراض کرو، میں نے تو بہر حال وہی کچھ کہنا ہے جو میں جانتا ہوں اس سے زیادہ میں کچھ بتا نہیں سکتا۔اب کسی بات کے متعلق دو ہی صورتیں ہوسکتی ہیں یا تو جو بات میں نے بتائی ہے وہ معقول ہے تم اسے سمجھے نہیں اور یا پھر جو بات میں نے بتائی ہے وہ غلط ہے اور تمہارا اعتراض درست ہے۔اگر تو جو کچھ میں نے بتایا ہے وہ غلط ہے تو یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ میں بددیانتی سے تم کو دھوکا دینے کے لئے کوئی بات نہیں کہتا میں جو کچھ کہتا ہوں اسے صحیح سمجھتے ہوئے ہی کہتا ہوں۔ایسی صورت میں خواہ تم کتنے اعتراض کرو میں تو وہی کچھ کہتا چلا جاؤں گا جو میں نے ایک دفعہ کہا اور اگر میں نے جو کچھ کہا ہے وہ درست ہے تو اس پر اعتراض کرنے کے معنی یہ ہیں کہ وہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آئی۔ایسی حالت میں اگر تم اعتراض کرو گے تو اس سے تمہاری طبیعت میں ضد پیدا ہو گی کوئی فائدہ نہیں ہوگا اس لئے میری نصیحت یہ ہے کہ تم سوالات نہ کیا کرو بلکہ خود سوچنے اور غور کرنے کی عادت ڈالو۔اگر کوئی