انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 265

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۶۵ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد نئے آدمی تیار کرے۔پھر دوسرے دفتر میں حصہ لینے والا ہر شخص کوشش کرے کہ وہ تیسرے دفتر کے لئے پانچ پانچ ، سات سات آدمی کھڑے کرے اور تیسرے دفتر میں حصہ لینے والا شخص کوشش کرے کہ وہ چوتھے دفتر کے لئے پانچ پانچ ، سات سات آدمی تیار کرے تا کہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے اور اس روپیہ سے تبلیغ کے نظام کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جا سکے۔اگر دوست زیادہ آدمی تیار نہ کر سکیں تو کم از کم ہر شخص کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ وہ دفتر دوم کے لئے ایک آدمی ضرور تیار کرے ورنہ روحانی لحاظ سے وہ بے نسل سمجھا جائے گا اور دین کی اشاعت کا کام جو اُس نے شروع کیا تھا وہ اُس کی ذات کے ساتھ ہی منقطع ہو جائے گا۔پس جماعت کو دفتر دوم کی طرف بھی خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی چاہئے۔تحریک جدید کے دور اول میں حصہ لینے والوں میں سے ہر فرد کا دفتر دوم کے لئے کم از کم ایک آدمی تیار کرنا ایسا ہی ہے جیسے روحانی اولاد کی زیادتی میں حصہ لینا۔اس طرح قیامت تک یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے چلتا جائے گا اور جماعت کے لئے دائمی ثواب اور خدا تعالیٰ کے قرب کا ایک دائمی رستہ کھلا رہے گا۔اللہ تعالیٰ اگر انسان کو توفیق عطا فرمائے تو وہ ایک چھوٹے سے چھوٹے لفظ اور ایک چھوٹے سے چھوٹے اشارہ سے بھی وہ کچھ سمجھ لیتا ہے جو بڑی بڑی کتابوں اور تقریروں سے بھی اُسے حاصل نہیں ہوتا۔یہی وہ مقام ہے جس میں انسان شیطانی حملہ سے گلی طور پر محفوظ ہو جاتا ہے اور روحانی میدان میں وہ کسی طرح شکست نہیں کھا سکتا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ یہ بات بیان کی ہے کہ حضرت خلیفہ اول بہت بڑے عالم تھے اور آپ ساری عمر ہی درس و تدریس میں مشغول رہے۔اور پھر مجھے بھی آپ نے بڑی شفقت اور محبت کے ساتھ پڑھایا اور میری تعلیم کا خاص طور پر خیال رکھا لیکن اصل سبق جو انہوں نے مجھے دیا اور جس کو میں آج تک نہیں بھولا وہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ پر تو نکل کر کے انسان کو اسی سے علوم سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔یہ اپنی ذات میں ایک ایسا نکتہ ہے کہ اس کے لئے میں اُن کا جتنا بھی ممنون ہوں کم ہے اور جتنا بھی اس نصیحت پر عمل کیا جائے تھوڑا ہے۔مجھے یاد ہے حافظ روشن علی صاحب اور میں دونوں حضرت خلیفہ اول سے پڑھا کرتے تھے