انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 246

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۶ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں سمجھتے ہیں کہ یہ شرعی مسئلہ ہے اور یہ ایک لحاظ سے ہے بھی لیکن اسی حد تک کہ بندے اُس کو خلیفہ مقرر کریں۔مگر خلافت کے دو حصے ہوتے ہیں۔ایک حصہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اُس کو خلیفہ بناتا ہے اور ایک یہ ہے کہ بندے اُس کا انتخاب کرتے ہیں۔جہاں تک بندوں کے انتخاب کا سوال ہے وہ ہو جائے گا لیکن جو حصہ خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ اگر بندے خلیفہ چننے کے لئے اُن قوانین کی پابندی کریں گے جو خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں تو وہ خلافت کا میاب ہوگی لیکن اگر نہیں کریں گے تو اگر چہ وہ خلیفہ تو بنالیں گے لیکن کامیاب نہیں ہو نگے۔یا پھر اُس خلیفہ کی حیثیت عیسائیوں کے پوپ کی طرح ہو جائے گی جس سے قوم کوئی حقیقی فائدہ نہیں اُٹھا سکے گی۔مگر باوجود اس کے ہر نبوت کے بعد خلافت ہوتی ہے۔دنیا ان باتوں کو ہمیشہ بھول جاتی ہے حالانکہ یہ بات ہمیشہ اور بار بار ہوتی ہے۔یہی چیزیں ہماری جماعت میں ہوتی ہیں اور آئندہ بھی ہونگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے اور اُسی رنگ میں آئے جس رنگ میں حضرت نوح ، حضرت ابراہیم ، حضرت داؤد ، حضرت سلیمان اور دوسرے انبیاء مبعوث ہوئے تھے اور آپ کے بعد بھی اُسی رنگ میں سلسلہ خلافت شروع ہوا۔جس طرح پہلے انبیاء کے بعد خلافت کا سلسلہ قائم ہوا۔اگر ہم عقل کے ساتھ دیکھیں اور اس کی حقیقت کو پہنچاننے کی کوشش کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ ایک عظیم الشان سلسلہ ہے۔بلکہ میں کہتا ہوں اگر دس ہزار نسلیں بھی اس کے قیام کے لئے قربان کر دی جائیں تو کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔میں دوسروں کے متعلق تو نہیں جانتا مگر کم از کم اپنے متعلق جانتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی تاریخ پڑھنے کے بعد جب میں حضرت عثمان پر پڑی ہوئی مصیبتوں پر نظر کرتا ہوں اور دوسری طرف اُس نو ر اور روحانیت کو دیکھتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر ان میں پیدا کی تھی تو میں کہتا ہوں اگر دنیا میں میری دس ہزار نسلیں پیدا ہونے والی ہوتیں اور وہ ساری کی ساری ایک ساعت میں جمع کر کے قربان کر دی جاتیں تا وہ فتنہ ٹل سکتا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جوں دے کر ہاتھی خریدنے کے سو دے سے بھی زیادہ سستا سودا ہوتا۔در حقیقت ہمیں کسی چیز کی قیمت کا پتہ پیچھے لگتا ہے۔اب میں یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ دین کی کوئی قیمت ہی نہیں رہی۔دین کی قیمت تو