انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 242

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۲ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوں۔انہوں نے یہاں تک کہا کہ اگر یعقوب اور اُس کی والدہ کو سنبھال لیا جائے تو میں بھی رہ سکوں گا مگر چونکہ میں اس قسم کی رشوت دینے کا عادی نہیں میں نے اس طرف توجہ نہیں کی۔مجھے اکثر ایسے لوگوں کی حالت پر حیرت آتی ہے کہ ذرا ان کو سلسلہ سے کوئی شکایت پیدا ہو تو انہیں خلافت کے مسئلہ میں بھی شک پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔گجرات کے دوستوں نے سنایا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تو ایک اہل حدیث مولوی نے ہمیں کہا اب تم لوگ قابو آئے ہو کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ہر نبوت کے بعد خلافت ہے اور تم میں خلافت نہیں ہو گی تم لوگ انگریزی دان ہو اس لئے خلافت کی طرف تم نہیں جاؤ گے۔وہ دوست بتاتے ہیں کہ دوسرے دن تار موصول ہوئی کہ جماعت نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی بیعت کر لی ہے اور ان کو اپنا خلیفہ بنالیا ہے۔جب احمدیوں نے اُس مولوی کو بتایا تو کہنے لگا نورالدین بڑا پڑھا لکھا آدمی تھا اِس لئے اُس نے جماعت میں خلافت قائم کر دی اگر اس کے بعد خلافت رہی تو پھر دیکھیں گے۔جب حضرت خلیفہ اول فوت ہوئے تو کہنے لگا اُس وقت اور بات تھی اب کوئی خلیفہ بنے گا تو دیکھیں گے۔دوست بتاتے ہیں کہ اگلے دن تار پہنچ گئی کہ جماعت نے میرے ہاتھ پر بیعت کر لی ہے۔اس پر کہنے لگا یا روتم بڑے عجیب ہو، تمہارا کوئی پتہ نہیں لگتا۔ہم دیکھتے ہیں کہ کفر ہمیشہ سے ایک ہی راستے پر چل رہا ہے اور اس سے پیار کرنے والے ہر نبی کے زمانہ میں وہی طریق اختیار کرتے ہیں جو پہلے انبیاء کے زمانہ میں اختیار کیا گیا۔اسی طرح ہدایت کا بھی ایک بنا بنایا راستہ ہے جو ابتداء سے آج تک بغیر تغیر وتبدل کے چلا آ رہا ہے اور ہر آنے والا اسی راستہ پر چلتا ہے لیکن لوگ اس بنے ہوئے رستہ کی طرف توجہ نہیں کرتے اور خودتراشیدہ قوانین کی پیروی کرتے ہیں۔کوئی مسلم لیگ بناتا ہے، کوئی زمیندارہ لیگ بناتا ہے، کوئی سیاسی انجمنیں بناتا ہے، کوئی اقتصادی انجمنیں بنا تا ہے، کوئی مذہبی مجالس قائم کرتا ہے اور اسے دین کی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی سمجھتے ہیں حالانکہ دنیوی ضرورتیں تو سمجھو کہ ان سے پوری ہو سکتی ہیں دینی ضرورتیں کب ان طریقوں سے پوری ہو سکتی ہیں۔یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کو تو اپنے دین کا فکر نہیں صرف ان لوگوں کو فکر ہے۔اگر مسلمان اللہ تعالیٰ کی جماعت ا