انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 239

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۳۹ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں دی ہے تم بھی غور سے دیکھ لو یہ شیطان بیٹھا ہے۔مرزا علی شیر غصہ سے ہاتھ واپس کھینچتے لیکن وہ نہ چھوڑتا تھا اور اپنے بھائیوں سے کہتا جاتا تھا دیکھ لو اچھی طرح دیکھ لو شاید پھر دیکھنا نہ ملے یہ شیطان ہے۔پھر اس نے اپنے بھائیوں کو سارا قصہ سنایا۔اب دیکھو کس طرح ایک قوم دوسری قوم کے قدم بقدم چلتی ہے۔ہم نے خود دیکھ لیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن تیرہ سو سال کے بعد وہی اعتراض کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے گئے بلکہ وہی اعتراض کئے جاتے ہیں جو حضرت نوح پر آپ کے دشمنوں نے کئے یا جو اعتراض حضرت ابراہیم پر آپ کے دشمنوں نے کئے ، یا جو اعتراض حضرت موسیٰ کے دشمنوں نے آپ پر کئے، یا جو اعتراض حضرت عیسی پر آپ کے دشمنوں نے کئے۔پس حقیقت یہ ہے کہ سچ کا مقابلہ سوائے جھوٹ اور فریب کے کیا ہی نہیں جا سکتا۔سچ ہر زمانہ میں سچ ہے اور جھوٹ ہر زمانہ میں جھوٹ ہے۔سچ کے مقابلہ میں سوائے جھوٹ اور فریب کے آہی کیا سکتا ہے۔اگر کوئی چیز دشمنوں کے پاس سوائے جھوٹ کے ہو تو نکلے۔ہمارے ہاں مثل مشہور ہے کہ کسی میراثی کے گھر میں رات کے وقت چور آیا یہ سمجھ کر کہ آخر دس ہمیں پچاس روپے تو اُس کے ہاں ضرور ہونگے اور نہیں تو کوئی کپڑا ہی سہی۔چور کو نسالا کھ پتی ہوتا ہے کہ ضرور لاکھوں والی جگہ ہی چوری کرے۔اگر اُسے ایک روپیہ بھی مل جائے تو وہ اُسے ہی غنیمت سمجھتا ہے۔وہ بھی یہی سمجھتا کہ آخر کوئی نہ کوئی ہدیہ ہی میراثی کو جمانوں کے کے ہاں سے ملا ہو گا وہی سہی۔پرانے زمانے میں یہ دستور تھا کہ جس کے پاس کوئی نقدی یا زیور ہوتا وہ اُسے کسی برتن میں ڈال کر زمین میں دفن کر دیتا تھا اور چوروں نے اُسے نکالنے کا یہ طریق نکالا تھا کہ وہ لاٹھی لے کر گھر کی زمین کو ٹھکور ٹھکور کر دیکھتے جہاں انہیں نرم نرم زمین معلوم ہوتی وہاں سے کھود کر نقدی یا زیور نکال لیتے تھے۔یہی طریق اُس چور نے اختیار کیا اور لاٹھی لے کر گھر کی زمین کو ٹھکو ر ٹھکور کر دیکھنے لگا۔اسی اثناء میں میراثی کی آنکھ کھل گئی اور اُسے چور کی یہ حرکت دیکھ کر ہنسی آنے لگی کہ ہمیں تو کھانے کو نہیں ملتا اور یہ سوٹیاں مار مار کر خزانہ تلاش کر رہا ہے۔کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس نے ہنس کر چور سے کہا۔”جمان ! سانوں ایتھے دن نوں کچھ نہیں لبھدا۔تہانوں راتیں کی لکھنا ہے۔یعنی ہمیں یہاں دن کو کوئی چیز نہیں ملتی آپ کو رات کے