انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 238

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۳۸ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں دفاتر تھے، نہ مسجد مبارک کی ترقیاں ایمان پرور تھیں ، نہ مسجد اقصی کی وسعت اس قدر جاذب تھی ، نہ محلوں میں یہ رونق تھی ، نہ کالج تھا نہ سکول تھے۔اُن دنوں لوگ اپنے اخلاص سے خود ہی قابل زیارت جگہ بنا لیا کرتے تھے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد صاحب کا باغ ہے اسے دیکھو اور یہ حضرت صاحب کے لنگر کا باورچی ہے اس سے ملو اور اس سے باتیں پوچھواُن کا ایمان اسی سے بڑھ جاتا تھا اُن دنوں ابھی بہشتی مقبرہ بھی نہ بنا تھا صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کا لگایا ہوا باغ تھا۔لوگ وہاں برکت حاصل کرنے کیلئے جاتے اور علی شیر صاحب رستہ میں بیٹھے ہوئے ہوتے۔وہ پانچوں بھائی بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا باغ دیکھنے کے لئے گئے تو اُن میں سے ایک جو زیادہ جوشیلا تھا وہ کوئی دو سو گز آگے تھا اور باقی آہستہ آہستہ پیچھے آرہے تھے۔علی شیر نے اُسے دیکھ کر کہ یہ باہر سے آیا ہے اپنے پاس بلا لیا اور پوچھا کہ مرزا کو ملنے آئے ہو؟ اُس نے کہا ہاں مرزا صاحب کو ہی ملنے آیا ہوں۔علی شیر نے اُس سے کہا ذرا بیٹھ جاؤ اور پھر اُسے سمجھانا شروع کیا کہ میں مرزا کے قریبی رشتہ داروں میں سے ہوں میں اس کے حالات سے خوب واقف ہوں ، اصل میں آمدنی کم تھی بھائی نے جائداد سے بھی محروم کر دیا اس لئے یہ دُکان کھول لی ہے۔آپ لوگوں کے پاس کتا بیں اور اشتہار پہنچ جاتے ہیں آپ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کتنا بڑا بزرگ ہوگا پتہ تو ہم کو ہے جو دن رات اس کے پاس رہتے ہیں۔یہ باتیں میں نے آپ کی خیر خواہی کے لئے آپ کو بتائیں ہیں۔چک سکندر سے آنے والے دوست نے بڑے جوش کے ساتھ مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔علی شیر صاحب سمجھے کہ شکار میرے ہاتھ آ گیا ہے۔اُس دوست نے علی شیر صاحب کا ہاتھ پکڑ لیا اور پکڑ کر بیٹھ گیا۔گویا اسے اُن سے بڑی عقیدت ہوگئی ہے۔علی شیر صاحب دل میں سمجھے کہ ایک تو میرے قابو میں آ گیا ہے۔اس دوست نے اپنے باقی بھائیوں کو آواز دی کہ جلدی آ ؤ جلدی آؤ۔اب تو مرزا علی شیر پھولے نہ سمائے کہ اس کے کچھ اور ساتھی بھی ہیں وہ بھی میرا شکار ہو جائیں گے اور میں ان کو بھی اپنا گرویدہ بنالوں گا۔اس دوست کے باقی ساتھی دوڑ کر آ گئے تو اس نے کہا۔میں نے تمہیں اس لئے جلدی بلایا ہے کہ ہم قرآن کریم اور حدیث میں شیطان کے متعلق پڑھا کرتے تھے مگر شکل نہیں دیکھی تھی آج اللہ تعالیٰ نے اُس کی شکل بھی دکھا