انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 221

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۲۱ مسلمانوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا اس وقت میری عجیب حالت ہوگئی کہ دیکھو میں نے اس کے دل کو نرم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے ایک ایسی بات پیش کر دی ہے جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔اگر دوسرے نے کرایہ دیا ہوا ہوتا تو میں نے میدان مار لیا تھا مگر چونکہ وہ آٹھ نو ماہ کا کرایہ بھی کھا جانا چاہتا تھا اور مکان پر قبضہ بھی جمائے رکھنا چاہتا تھا اس لئے میری حالت اُس وقت ویسی ہی ہوگئی جیسے کہتے ہیں کہ پٹھان نے ایک ہندو کو پکڑ لیا اور کہا کلمہ پڑھو۔کہنے لگا میں کس طرح پڑھوں میں تو ہندو ہوں۔پٹھان کہنے لگا خو کلمہ پڑھو ہم ہندو وندو نہیں جانتا تم کو کلمہ پڑھانے سے ہم جنت میں چلا جائے گا۔اصل بات یہ تھی کہ اُس نے سنا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کو مسلمان بنا دے تو وہ سیدھا جنت میں چلا جاتا ہے اس لئے اس نے کہا خواہ تو ہندو ہے یا کوئی اور آج تجھے کلمہ پڑھا کر چھوڑنا ہے۔اُس نے تلوار نکال لی اور کہا کلمہ پڑھ نہیں تو ابھی مارتا ہوں۔وہ بیچارہ منتیں کر کے وقت گزارتا رہا اور ادھر اُدھر دیکھتا رہا کہ شاید کوئی آجائے اور میں بچ جاؤں لیکن اُس کی بد قسمتی کہ کافی دیر تک کوئی نہ آیا۔لالوں کو جان پیاری ہوتی ہے آخر تنگ آ کر کہنے لگا اچھا کلمہ پڑھاؤ۔پٹھان نے کہا خوتم خود پڑھو۔اُس نے کہا میں ہندو ہوں مجھے کہاں آتا ہے۔کہنے لگا خو تمہارا قسمت خراب ہے کلمہ تو ہم کو بھی نہیں آتا اگر کلمہ آتا تو آج تم کو مسلمان بنا کر ہم جنت میں چلا جا تا۔اسی طرح میں نے نصیحت کر کے اُس کے دل کو نرم کیا اور جب نرم کر لیا تو اُس نے ایسا جواب دیا کہ میرا کلمہ وہیں رہ گیا اب میں اُسے کیا جواب دیتا۔اگر اس نے کرایہ ادا کیا ہوتا تو میں اسے کلمہ پڑھا لیتا لیکن اس کے جواب کے بعد میں کیا کر سکتا تھا۔پس مومنوں کو دوسروں کے حقوق ادا کر نے میں چست ہونا چاہئے۔صحابہ میں نیکی کا اتنا غلبہ تھا کہ ایک صحابی کسی دوسرے صحابی کے پاس اپنا گھوڑا بیچنے آئے انہوں نے پوچھا کیا قیمت ہے؟ اُس نے کہا ایک ہزار درہم۔اُس نے گھوڑے کو دیکھ کر کہا تم نے اس کا کم مول لگایا ہے اس کی قیمت تو دو ہزار درہم ہے۔مالک نے کہا اس کی قیمت ایک ہزار درہم ہے میں صدقہ لینا نہیں چاہتا، میں ایک ہزار درہم ہی لوں گا۔اُس نے کہا میں کسی کا مال کھانا نہیں چاہتا اس کی قیمت دو ہزار درہم ہے اور میں دو ہزار درہم ہی دوں گا۔ہوتے ہوتے یہ بات قاضی کے سامنے پیش ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ یہ گھوڑا دو ہزار کا ہے۔پھر اُس نے وہ