انوارالعلوم (جلد 18) — Page 220
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۲۰ نوں نے اپنے غلبہ کے زمانہ میں اخلاق کا اعلیٰ نمونہ دکھایا رطبیب کے سپر د کر دے لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ خدا تعالیٰ مظلوم کو ایک بھیڑئیے کے منہ سے نکال کر دوسرے بھیڑئیے کے منہ میں دے دے۔پس جب تک ہماری جماعت وہ اخلاق پیدا نہ کر لے جو انبیاء کی جماعتوں میں ہونے چاہئیں اُس وقت تک خدا تعالیٰ کے فضل نازل نہیں ہو سکتے۔اگر اِن بُرے اخلاق کے باوجود ہم میں حکومت آ جائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا تعالى ( نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ) خود اس ظلم میں شریک ہوگا اور یہ مظلوم کو بھیڑیے کے منہ سے نکال کر طبیب کے سپرد کرنے والی بات نہیں ہوگی بلکہ ایک مظلوم کو ایک بھیڑئیے کے منہ سے نکال کر دوسرے بھیڑئیے کے منہ میں دینے والی بات ہو جائے گی۔صرف فرق یہ ہوگا کہ انگریزوں کے ہاتھ سے نکل کر احمدیوں کے ہاتھ میں مال آ جائے گا ورنہ انگریز بھی ویسے اور احمدی بھی ویسے۔لیکن اگر احمدیوں کے اخلاق ایسے ہوں گے کہ وہ لوگوں کے مالوں کی حفاظت کرنے والے اور اُن پر احسان کرنے والے ہوں گے تو وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں گے۔مجھے ایک شخص مکان کے مقدمہ کے بارہ میں ملنے آیا میں نے اُسے سمجھانے کی غرض سے کہا دیکھو! تم فوج میں ملازم ہو۔سال میں ۲۰،۱۵ دن کے لئے تم آئے ہو اتنا عرصہ تم مہمان خانہ میں یا اپنے کسی دوست کے ہاں ٹھہر سکتے ہو اس وقت مکان نہیں ملتے۔اگر تم نے ان کو اپنے پندرہ دن کے آرام کے لئے نکالا تو ان کو بڑی تکلیف ہو گی۔صحابہ نے تو باہر سے آنے والوں کو اپنی جائدادیں دے دی تھیں بلکہ باہر سے آنے والوں کے ساتھ اس سے بڑھ کر یہ سلوک بھی کیا کہ ان میں سے بعض اپنی دو بیویوں میں سے ایک کو اپنے بھائی کی خاطر طلاق دینے کے لئے تیار ہو گئے تھے تا کہ وہ اُس سے شادی کرلے لیکن ہماری یہ حالت ہے کہ ہم اپنے پندرہ یا زیادہ سے زیادہ بیس دن کے آرام کے لئے ان کو جنہوں نے مکان میں ساڑھے گیارہ مہینے رہنا ہے چاہتے ہیں کہ نکال دیں۔میں نے اس کو اس طرح نصیحت کی اور دیکھا کہ میری نصیحت کا اس پر اثر تھا لیکن اس نے کہا حضور! میں تسلیم کرتا ہوں کہ انہیں اس طرح دق کرنا میری غلطی ہے لیکن آپ ان سے دریافت کر لیں انہوں نے آٹھ نو ماہ سے تو کرایہ بھی ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے میں ان کو نکالنے پر مجبور ہوں۔میں نے کہا یہ بات تو معقول ہے اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں۔