انوارالعلوم (جلد 18) — Page 194
۱۹۴ انوار العلوم جلد ۱۸ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام کے متعلق ہزاروں باتیں کہتا ہے اگر حق قبول کرنے کے متعلق کوئی بات ہو تو لوگ فوراً دوسروں کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ نادان لوگ ہیں سنتے نہیں ، جاہل لوگ ہیں کسی بات پر غور نہیں کرتے ، دنیا کے کاموں میں مشغول رہتے ہیں اور دین کی طرف توجہ نہیں کرتے۔لیکن اگر یہی باتیں ان کے اپنے اندر پائی جائیں تو کیا یہی باتیں وہ اپنے متعلق کہنے کو تیار ہوتے ہیں؟ اپنے ہمسائے کے متعلق ہمیشہ کہتے رہیں گے کہ بڑا ضدی ہے نہیں مانتا دو تین سال سمجھاتے ہو گئے ہیں پھر بھی نہیں سمجھتا لیکن اگر ان کے اپنے متعلق یہی سوال ہو تو کیا وہ اپنے نفس کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ بڑا ضدی ہے نہیں مانتا، بہت سمجھایا ہے نہیں سمجھتا۔ہمسائے کے متعلق یہ عذر کر دیتے ہیں کہ سنتا ہی نہیں بڑا جاہل ہے مگر کیا اپنے نفس کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ سنتا ہی نہیں بڑا جاہل ہے۔اپنے ہمسائے کے متعلق تو کہہ دیتے ہیں کہ سارا دن دنیا کے کاموں میں مشغول رہتا ہے دین کے کاموں کی طرف توجہ نہیں کرتا مگر کیا اپنے نفس کے متعلق بھی یہی کہیں گے کہ سارا دن کام میں لگا رہتا ہوں اس لئے دین کے کاموں کی طرف توجہ نہیں کر سکتا۔غرض وہ کونسا جواب ہے جو اپنے ہمسائے کے لئے دیتے ہیں اور اپنے لئے بھی وہی جواب پسند کرتے ہوں۔اگر کوئی شخص ان کی طرف سے یہی جواب دے تو لال لال آنکھیں نکال کر دیکھیں گے اور کہیں گے اس نے میری ہتک کر دی۔پس یہ ایک اہم سوال ہے اور ہر خادم کو اس امر کے متعلق غور کرنا چاہئے کہ اس سات سال کے عرصہ میں اس نے کیا کیا۔جہاں تک اہم باتوں کا سوال ہے ابھی تک خدام ان میں بہت پیچھے ہیں۔حاضری کو ہی دیکھ لو کتنی کم ہے، بیرونی جماعتوں کی طرف سے پچھلے سال چودہ نمائندے آئے تھے اور اس سال اکتیس نمائندے آئے ہیں ہماری جماعتیں آٹھ سو سے زیادہ ہیں اور جو جماعت آٹھ سو سے زیادہ شاخیں رکھتی ہو اُس کے صرف اکتیس نمائندے آئیں تو یہ کوئی اچھا نمونہ نہیں بلکہ ایسا نمونہ ہے جسے دشمن کے سامنے پیش کرتے ہوئے ہمارے ماتھے پر پسینے کے قطرے آ جاتے ہیں۔ہم دوسروں کو بُرا کہتے ہیں لیکن ہماری اپنی حالت بعض باتوں میں اُن سے زیادہ کمزور ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری جماعت کا نمونہ اکثر باتوں میں دوسری جماعتوں کی نسبت اچھا ہے لیکن بعض باتوں میں ہم ابھی تک اُن کا مقابلہ نہیں کر سکے۔