انوارالعلوم (جلد 18) — Page 193
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۹۳ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مجلس خدام الاحمدیہ کا تفصیلی پر وگرام ( تقریر فرموده ۲۱ ۱۷ کتوبر ۱۹۴۵ء بر موقع سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ ) اس مضمون کو لکھنے والے نے بہت خراب کر دیا ہے۔اکثر جگہ دلیل کا ایک ٹکڑ انقل کیا ہے دوسرا چھوڑ دیا ہے بعض جگہ واقعات ہی بدل ڈالے ہیں۔میں نے کاٹ کاٹ کر ترتیب درست کرنے کی تو کوشش کی ہے مگر پھر بھی افسوس ہے کہ مضمون کی اہمیت کو بہت نقصان پہنچ گیا ہے۔) ( مرزا محمود احمد ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا۔میں نے اس دفعہ کے پروگرام میں دیکھا ہے کہ یہ مجلس خدام الاحمدیہ کا ساتواں سالانہ جلسہ ہے۔سات کا عدد اسلامی اصطلاح میں تکمیل پر دلالت کرتا ہے۔پس ہر ایک خادمِ احمد بیت کو اپنے دل میں غور کرنا چاہئے کہ آیا ان سات سالوں میں اُس کی یا اُس کے محلہ کی یا اُس کے شہر کی یا اُس کی قوم کی تعمیل ہوگئی ہے؟ سات سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے سات سال بعد یعنی آٹھویں سال تمام عرب پر غلبہ حاصل کر لیا تھا اور وہ ملک جو ایک سرے سے دوسرے تک اسلام کی مخالفت میں کھول رہا تھا اور اس کا جوش دوزخ کی آگ کو مات کر رہا تھا عاشقوں اور فدائیوں کے طور پر آپ کے قدموں میں آگرا۔اس سات سال کے عرصہ میں صحابہ نے ملک کی حالت کو بدل ڈالا ، قلوب کی حالت کو بدل ڈالا اور اُن کے اندر زمین و آسمان کے فرق کی طرح امتیاز قائم کر دیا۔پس خدام الاحمدیہ کو بھی سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اس سات سال کے عرصہ میں مُلک کو چھوڑ کر ضلع کو چھوڑ کر ، شہر کو چھوڑ کر، محلہ کو چھوڑ کر ، گھر کو چھوڑ کر صرف اپنے دل میں کیا فرق اور امتیاز پیدا کیا ہے۔انسان دوسروں