انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 188

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۸۸ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی جائے گا۔میں امید کرتا ہوں کہ یونینسٹ لیڈر اس طرف توجہ کر کے اپنے نام پر سے وہ دھبہ دھو دیں گے جو اس وقت اُن کے نام کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور جو ایسا بد نما ہے کہ ہم لوگ جو مسلم لیگ میں شامل نہ تھے اور ہمارے تعلقات یونینسٹ سے بہت اچھے تھے اس دھبہ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنے کی بھی ہمت نہیں پاتے۔مگر یونینسٹ لیڈر جو کچھ فیصلہ کریں گے اس کا علم مجھے اس وقت نہیں اس لئے بادلِ نا خواستہ میں پنجاب کے متعلق یہ اعلان کرتا ہوں کہ پنجاب کے بارہ میں ہم کوئی اصولی مرکزی پالیسی سر دست اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔جہاں جہاں سے کوئی احمدی کھڑا ہونا چاہے میرا پہلا مشورہ اُسے یہ ہے کہ وہ مسلم لیگ کا ٹکٹ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اگر وہ یہ ٹکٹ حاصل نہ کر سکے تو پھر اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ احمدی ووٹ یا اس کی قوم کا ووٹ زیادہ ہے اور اس کا جائز حق دینے سے انکار کیا جا رہا ہے تو پھر اسے اجازت ہے کہ وہ یہ اعلان کر کے ممبری کے لئے کھڑا ہو جائے کہ میں پالیسی کے لحاظ سے مسلم لیگ سے متفق ہوں مگر چونکہ مسلم لیگ میرے حلقہ کے ووٹوں کی اکثریت کو اُس کا حق نہیں دیتی اس لئے میں مجبوراً انڈیپنڈنٹ کھڑا ہو رہا ہوں۔جب تک یونینسٹ پارٹی اپنی پالیسی کی ایسی وضاحت نہیں کرتی جس سے اُس کا مسلم لیگ کی مرکزی پالیسی سے پورا تعاون اور تائید ثابت ہو اور جس کے بعد شملہ کا نفرنس والے حالات کا اعادہ ناممکن ہو جائے میں سمجھتا ہوں کہ کسی احمدی کو یونینسٹ ٹکٹ پر کھڑا نہیں ہونا چاہئے۔لیکن اگر وہ ایسی وضاحت کر دے تو پھر جو شخص مسلم لیگ کے آل انڈیا پروگرام کی تائید کرتے ہوئے پنجاب کے مقامی سوالوں میں یونینسٹ سے اتفاق رکھتا ہو اس کے ٹکٹ پر اس کا کھڑا ہونا معیوب نہیں ہو گا۔مگر پہلے میری اور مرکزی ادارہ کی تسلی اِس بارہ میں ا ہو جانی چاہئے۔جہاں سے کوئی احمدی کھڑا نہیں ہو رہا وہاں کی جماعتوں کو بھی اپنے مخصوص حالات پیش کر کے امور عامہ سے اپنے حلقہ کے بارہ میں مشورہ کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کرنا چاہئے۔میری اوپر کی سب ہدایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ: ا۔پنجاب کے باہر ہر احمدی پوری طرح مسلم لیگ کی کمیٹیوں اور اُس کے امیدواروں کی مدد کرے۔اپنے اور اپنے زیر اثر ووٹ ان کو دے اور اپنے علاقہ کے لوگوں کو مسلم لیگ کے حق میں ووٹ دینے کی تلقین کرے