انوارالعلوم (جلد 18) — Page 187
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۸۷ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی وہاں کے حالات کے لحاظ سے باہر رہنے سے زیادہ مفید ہو۔جماعت کی تعدا د اور اس کے رسوخ کے لحاظ سے سندھ ، صوبہ سرحد ، یوپی، بنگال اور بہار میں احمد یہ جماعتیں خوب اچھا کام کر سکتی ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اِس موقع پر بھی اپنے روایتی ایثار اور قربانی کا نمایاں ثبوت مہیا کریں گی۔میں نے پنجاب کو منتقی رکھا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ مسلم لیگ کے بعض کارکن بلا وجہ ہماری مخالفت کر رہے ہیں۔مسلم لیگ ایک سیاسی انجمن ہے اور اسے اپنے دائرہ عمل کے لحاظ سے ہر مسلمان کہلانے والے کو مسلمان سمجھ کر اپنے ساتھ شریک کرنا چاہئے۔لیکن عجیب بات یہ ہے کہ ہماری جماعت تو ہر جگہ مسلم لیگ کا پروپیگنڈا کرتی رہی ہے مگر لاہور کے مسلم لیگ کے ایک جلسہ میں جماعت احمدیہ کو خوب خوب گالیاں دی گئیں حالانکہ گالیاں دینا تو دشمن کے حق میں بھی روا نہیں کجا یہ کہ ایک ایسی جماعت کو گالیاں دی جائیں جو مسلم لیگ کے بارہ میں بے تعلق بھی نہیں بلکہ اُس کے حق میں ہے۔ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ گالیاں دینے والے تو چند افراد ہیں مگر سوال یہ ہے کہ جو جماعت چند افراد کا منہ بند نہیں کر سکتی وہ عام جوش کے وقت کسی اقلیت کی حفاظت کس طرح کر سکے گی۔جماعت احمدیہ نے اپنا معاملہ مسٹر جناح صاحب کی خدمت میں پیش کیا تھا اُنہوں نے جواب دیا ہے کہ صوبہ جاتی سوال کو صوبہ کی کونسل ہی حل کر سکتی ہے۔مگر جہاں تک میں نے معلوم کیا ہے ،صوبہ جاتی کونسل ابھی اپنے آپ کو اس سوال کے حل کرنے کے قابل نہیں پاتی۔دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ یونینسٹ پارٹی نے یہ اعلان کر دیا ہے کہ وہ مرکزی نمائندگی میں مسلم لیگ کے نمائندوں کا مقابلہ نہیں کرے گی یہ ایک نیک اقدام ہے۔اور کہتے ہیں کہ صبح کا کھولا شام کو واپس آئے تو اُسے بُھولا نہیں سمجھنا چاہئے۔اگر یونینسٹ پارٹی ایک اور قدم اُٹھائے تو میں سمجھتا ہوں جہاں تک لیگ اور کانگرس کے سمجھوتے کا سوال ہے یونینسٹ پارٹی اُس کے راستہ میں حائل نہیں رہے گی اور مسلمانوں کی بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے لیڈروں کا یہ فرض ہے کہ وہ ایسا ہی کریں۔اس کے بعد اگر وہ مقامی لیگ کے مقابل پر اپنے ممبر کھڑے کریں تو یہ مسلم لیگ کے نظریہ اور اس کے مخالف نظریہ کی بحث نہ ہوگی بلکہ یہ صرف ایک ذاتی اور صوبہ جاتی سوال رہ