انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 171

انوار العلوم جلد ۱۸ KI نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں اندھا ہے وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہوگا۔قرآن مجید کا یہ طریق ہے کہ وہ بات کو نہایت اختصار سے بیان کرتا ہے اور یہ بلاغت کا قاعدہ ہے کہ بات ایک جزو کے متعلق کرتے ہیں مگر تمام اجزاء مراد ہوتے ہیں۔اس آیت کی تفسیر اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ لَّهُمْ قُلُوبٌ لا يَفْقَهُونَ بهَا وَلَهُمْ أَعْيُنَ لا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَذانَ لا يَسْمَعُونَ ہ یعنی ان کے سینوں میں ظاہری طور پر دل تو موجود ہیں لیکن وہ ان سے کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھوں میں ظاہری طور پر ڈیلے تو موجود ہیں لیکن وہ اُن سے دیکھتے نہیں اور ان کے ظاہری طور پر کان تو ہیں لیکن ان سے سنتے نہیں۔یہ کافر کی علامت ہوتی ہے کہ وہ روحانی لحاظ سے بالکل اندھا، بہرہ اور گونگا ہوتا ہے۔وہ ظاہری آنکھیں رکھنے کے باوجود نہیں دیکھتا کہ اللہ تعالیٰ کے کیا کیا نشانات ظاہر ہو رہے ہیں اور کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی نصرت کر رہا ہے، وہ ظاہری کان رکھنے کے با وجود نہیں سنتا۔ہر طرف سے صداقت اور سچائی کی آوازیں بلند ہوتی ہیں ، چاروں طرف لوگ سچائی کا بآواز بلند اقرار کرتے ہیں لیکن اُس کے کانوں میں آواز نہیں پہنچتی ، اُس کے پاس دل ہوتا ہے لیکن وہ صرف ایک گوشت کی بوٹی ہوتی ہے۔جو کام دل کا ہوتا ہے کہ وہ کسی بات کے متعلق فیصلہ کرے اور اُس پر مضبوطی سے قائم ہو جائے یہ بات اس میں نہیں ہوتی۔پھر کا فرگونگا ہوتا ہے یعنی حق کے مقابلہ میں کوئی بات اُس کے منہ سے نہیں نکلتی وہ حق کے مقابلہ میں حیران و ششدر ہو جاتا ہے۔پس من كَانَ في هذةٍ أَعْمَى فَهُوَنِ الأخرة آغمی سے مراد صرف آنکھوں کا اندھا پن نہیں بلکہ دوسری آیات جو اسی مضمون کی ہیں وہ بھی اس کے ساتھ شامل ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس دنیا میں روحانی طور پر اندھا ہے وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہوگا ، جو شخص اس جہان میں روحانی طور پر اصم ہے وہ شخص اگلے جہان میں بھی آصم ہوگا ، جو شخص اس جہان میں روحانی طور پر اب کم ہے وہ اگلے جہان میں بھی ابگم ہوگا۔نام ایک عضو کا لیا اور مراد اس سے تمام اعضاء ہیں۔پس جس شخص کی نہ آنکھیں ہوں ، نہ کان ہوں ، نہ زبان ہو ، نہ ناک ہو ، نہ ہاتھ ہوں وہ جنت سے کیا فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جنت کے متعلق فرماتے ہیں جنت ایسی چیز ہے کہ مَالَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ