انوارالعلوم (جلد 18) — Page 154
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۵۴ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید اُن پر عمل نہ کیا تو آپ کی مثال اُس جو ہڑ کی سی ہوگی جس میں پانی جمع ہو جاتا ہے لیکن وہ خود اس میں سے پانی نہیں پیتا ہاں لوگوں کو پلا دیتا ہے۔لیکن اگر آپ نے قرآن شریف کی باتیں سنیں اور اُن پر عمل کیا اور دوسروں کو بھی قرآن شریف پڑھایا اور سمجھایا تو آپ کی مثال ایسی اچھی زمین کی ہوگی جو خود پانی پیتی ہے اور دوسروں کو گھاس ، چارہ ، پھل اور پھول دیتی ہے اور بنی نوع انسان اس سے فائدہ حاصل کرتے ہیں۔یہی وہ زمین ہے جس کے لئے زمیندار خواہش کرتے ہیں اور جس کو حاصل کرنے کے لئے ہر ایک خواہش کرتا ہے۔راجپوتانہ کے علاقہ میں ہزار ہا میل کے میدان بیابان پڑے ہیں لیکن کوئی شخص ان کے لئے خوشی سے ایک پیسہ دینے کی بھی خواہش نہیں رکھتا لیکن لائل پور اور سرگودھا کے علاقوں میں پچیس پچیس ہزار روپے دے کر ایک مربع زمین خریدتے ہیں۔نیلامی میں تو یہاں تک مول پڑتا ہے کہ ایک دوست نے مجھے بتایا کہ لوگوں نے ایک جگہ پانچ ایکڑ زمین کی ایک لاکھ کئی ہزار بولی دی ، تو اچھی زمین ہی قیمتی ہوتی ہے۔پس اگر آپ قیمتی وجود بننا چاہتے ہیں تو آپ اس پڑھے ہوئے پر عمل کریں اور جو کچھ یہاں سے سبق حاصل کر کے جائیں اُس کو خود بھی استعمال کریں اور اس سے فائدہ اُٹھا ئیں اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچائیں۔میں ایک اور بات بیان کرتا ہوں جو رسول کریم ﷺ کی حدیث کی تردید نہیں کرتی بلکہ صلى الله تائید کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جو زمین کی مثال دی تھی اس سے ہمیں ایک اور سبق ملتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک زمین ایسی ہوتی ہے جو پانی جذب کرتی ہے اور پانی ہی اُگلتی ہے۔ایک زمین ایسی ہوتی ہے جو پانی جذب کرتی ہے لیکن پانی نہیں نکالتی بلکہ اس کی بجائے انگور ، انار ، آم، گندم، کپاس، گھاس ، چارہ وغیرہ نکالتی ہے۔اسی طرح اگر آپ لوگوں نے جو کچھ یہاں پڑھا وہی واپس جا کر پڑھایا تو آپ کی مثال ایسی زمین کی ہوگی جو پانی پیتی ہے اور پانی نکال دیتی ہے لیکن اگر آپ دوسری مثال کے مصداق بننا چاہتے ہیں تو آپ میں یہ قابلیت پیدا ہونی چاہئے کہ آپ کو اُستاد جو باتیں بتلائیں اُن میں تغیر و تبدل کر کے ایک نئی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کریں۔اگر آپ کو صرف وہی نکتے یا درہتے ہیں جو اُستاد نے بتائے ہیں تو آپ ہرگز اس مثال کے مصداق نہیں ہو سکتے۔لیکن اگر ان باتوں نے آپ کے دل میں بہیجان