انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 153

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۵۳ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید صلى الله سے آ کر پانی پیتے ہیں یا پانی لے جاتے ہیں یہ درمیانہ درجہ کے لوگ ہیں۔رسول کریم ہے فرماتے ہیں علم کے لحاظ سے تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک تو وہ جن کی مثال اُس زمین کی سی ہوتی ہے جو ڈھلوان ہوتی ہے اور سخت بھی جس پر پانی ٹھہرتا ہی نہیں۔ایک زمین ایسی ہوتی ہے جو نشیب میں ہوتی ہے اُس پر پانی پڑتا ہے اور جمع ہو جاتا ہے لیکن پانی تہہ میں نہیں جاتا وہ زمین پانی نہیں پیتی لیکن چار پائے آتے اور پیتے ہیں۔تیسری مثال ایسی زمین کی ہے جو عمدہ قسم کی وتی ہے جس میں روئیدگی اُگانے کی طاقت ہے اُس میں ڈھلوان نہیں کہ پانی بہہ جائے اور وہ کنکریلی نہیں کہ پانی جذب نہ کر سکے بلکہ جب آسمان سے بارش ہوتی ہے تو وہ اُس پانی کو جذب کر لیتی ہے، پیتی ہے پھر سبزہ اُگاتی ہے ، پھل پھول اور اناج اُگاتی ہے دوسرے لوگ آتے ہیں اور اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ، انسان اُس سے پھل کھاتا ہے اور اناج حاصل کرتا ہے، جانور اُس سے چارہ حاصل کرتے ہیں وہ زمین آپ بھی پانی پیتی ہے اور دوسروں کو بھی پلاتی ہے۔یہی تین حالتیں انسان کی ہیں۔ایک عالم ایسے ہوتے ہیں جو علم کو حاصل کرتے ہیں اور حاصل کر کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اُن کی مثال اُس زمین کی ہے جو پانی پیتی ہے اور روئیدگی اُگاتی ہے آپ بھی فائدہ حاصل کرتی ہے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ایک ایسے عالم ہوتے ہیں جو علم حاصل کرتے ہیں اور اُسے اُسی شکل میں محفوظ رکھتے ہیں وہ عالم تو ہوتے ہیں لیکن بے عمل ، خدا اور رسول کی باتیں تو لوگوں کو بتاتے ہیں لیکن خود ان پر عمل نہیں کرتے۔اُن کی مثال ایسی نشیب زمین کی ہے جو پانی جمع کر لیتی ہے اُسے خود تو پیتی نہیں لیکن دوسروں کو پلا دیتی ہے۔تیسری قسم کے عالموں کی مثال ڈھلوان زمین کی ہے وہ علم حاصل کرتے ہیں لیکن اس کو یاد نہیں رکھتے وہ نہ خود اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور نہ دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں جیسا کہ ڈھلوان کنکریلی زمین سے پانی بہہ جاتا ہے اسی طرح ان پر سے علم گزر جاتا ہے لیکن اس سے صلى الله ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔پس اگر آپ لوگوں نے جو پڑھا ہے اُس کو بھلا دیا تو رسول کریم ﷺ نے آپ لوگوں کی مثال یہ بتائی ہے کہ جیسے کنکریلی ڈھلوان زمین جس نے نہ آپ پانی پیا اور نہ دوسروں کو پلایا۔اگر آپ نے قرآن شریف کی باتیں سنیں اور لوگوں کو جا کر سمجھائیں لیکن خود