انوارالعلوم (جلد 18) — Page 137
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۳۷ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید (HONG KONG) دیکھا ہے؟ کیا ہر شخص نے شنگھائی دیکھا ہے؟ ہم نے کتنی چیزیں دیکھی ہیں اور کتنی سُنی ہیں؟ اگر مقابلہ کیا جائے تو سننے کی چیزیں ہزار ہا گنا زیادہ ہیں اور دیکھنے والی چیزیں ہزار ہا گنا کم ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ دیکھی ہوئی چیزیں اکثر نظر انداز ہو جاتی ہیں اور سنی ہوئی چیز میں اکثر یا د رہتی ہیں۔ہم روزانہ سیر کے لئے باہر جاتے ہیں اور میدانوں اور پہاڑوں اور جنگلوں میں سے گزرتے ہیں لیکن جب باہر سے آنے والے انسان سے پوچھو کہ تم نے سیر میں کیا کیا دیکھا؟ اُس نے کئی کروڑ چیزیں دیکھی ہوتی ہیں مگر جب پوچھیں تو زیادہ سے زیادہ یوں کہہ دے گا بڑا اچھا نظارہ تھا۔جب پوچھیں بتاؤ تو سہی کیا نظارہ تھا ؟ تو آگے سے یہ جواب دے دیتے ہیں کہ بڑا اچھا نظارہ تھا، دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔دراصل مطلب یہ ہوتا ہے کہ یاد کچھ نہیں اور ہمارا یہ فقرہ کہنا کہ وہ نظارے دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں اپنے اندر درحقیقت یہ مفہوم رکھتا ہے کہ خاص نگاہ سے کسی چیز کو دیکھا ہی نہیں ویسے نظارے اچھے لگے۔لیکن اس کے مقابل پر اگر یہ پوچھا جائے کہ راستہ میں کون کون ملا اور کس کس سے کیا کیا باتیں کیں؟ تو وہ اس سے بیسیوں گنے زیادہ باتیں بتا دے گا۔وہ یہ بتلائے گا کہ راستے میں فلاں چوہدری ملا اُس نے یہ کہا، فلاں ملا اُس نے یہ کہا اور فلاں آدمی جو مجھے ملا اُس نے یہ کہا تو جو سنی ہوئی باتیں ہیں وہ قریباً ساری یا د ہونگی اور دیکھی ہوئی باتوں میں سے اکثر بھول گئی ہونگی۔بات یہ ہے کہ حافظے سے تعلق رکھنے والی دیکھنے اور سننے کی الگ الگ حسیں ہیں اور تجربہ بتا تا ہے کہ سننے والی چیزیں زیادہ یا د رہتی ہیں اور دیکھنے والی چیز میں کم یا د رہتی ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جتنا بھی ہم کسی چیز کو زیادہ قریب کرتے ہیں اُتنا ہی وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے۔ہر وقت ماں کی گود میں رہنے والا بچہ ماں کو اتنا یاد نہیں ہوتا جتنا دُور کا رہنے والا۔وہ اپنے ایک بچہ کو گود میں اُٹھائے ہوئے ہوتی ہے لیکن اُس کا دماغ اُس بچہ کی طرف نہیں ہوتا بلکہ اُس بچہ کی طرف ہوتا ہے جو دور ہوتا ہے۔اسی طرح وہ چیزیں جن میں سے انسان ہر وقت گزرتا ہے وہ اتنا اثر اُس کی طبیعت پر نہیں ڈالتیں جتنا وہ چیزیں جن میں سے انسان کبھی کبھی گزرتا ہے اثر ڈالتی ہیں۔آنکھیں ہر وقت دیکھتی ہیں مگر کان ہر وقت نہیں سنتے ، شور وغل تو ہر وقت ہوتا رہتا ہے مگر اُس کی طرف انسان کی توجہ نہیں ہوتی صرف ایک گونج سی ہوتی ہے جو کان سنتے ہیں مگر وہ