انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xiv of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page xiv

انوارالعلوم جلد ۱۸ تعارف کت سے مؤرخہ ۲۹ ستمبر ۱۹۴۶ء کو بعد نماز ظہر بمقام پارک روڈ دہلی میں ارشاد فرمایا جس میں محض زبانی دعوؤں کی بجائے عملی نمونہ پیش کرنے کے متعلق نصائح فرمائی ہیں۔اسی طرح حضور نے اس تقریر میں خدام کو اپنے اندر نیک تبدیلی پیدا کرنے ،تنظیم مضبوط بنانے ، دین کیلئے قربانی کرنے اور بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔نیز ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ روحانی پاکیزگی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ:۔پس تم بے شک ظاہری صفائی کا بھی خیال رکھو لیکن اس سے زیادہ فکر تمہیں روحانی گند کو دور کر نے کیلئے ہونا چاہیئے۔اس روحانی گند کو دور کرنے کی کوشش کرو اور قربانی کے معیار کو بہت بلند کرو“۔(۱۷) فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین یہ یہ تقریر حضرت مصلح موعود نے یکم اکتوبر ۱۹۴۶ء کو جلسہ لجنہ اماءاللہ دہلی میں ارشاد فرمائی۔جس میں انہیں تبلیغ کرنے اور صحابیات کے نقش قدم پر چلنے کی پُرزور نصیحت کی اور صحابیات کے ایمان افروز واقعات اور مثالیں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔اگر تم چاہتی ہو کہ انہی انعامات کی وارث بنو جو صحابہ اور صحابیات پر ہوئے تو ان کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرو۔اب باتیں کرنے کے دن نہیں رہے۔۔۔۔جب تک عورتیں مردوں کے ساتھ ہر کام میں اُن کے دوش بدوش نہیں چلتیں اُس وقت تک تبلیغ کامیاب نہیں ہو سکتی اور اُس وقت تک اسلام دنیا پر غالب نہیں ہوسکتا۔(۱۸) دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے عالمگیر امن کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ پر معارف تقریر مؤرخہ ۱۹ اکتوبر ۱۹۴۶ء کو یوقت شام ساڑھے پانچ بجے ہم قام کوٹھی ۸ پارک روڈ دہلی کے وسیع صحن میں