انوارالعلوم (جلد 18) — Page 111
انوار العلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام موسیو سٹالن نے اسی جنگ کے ایام میں مسٹر چرچل کی ایک ملاقات کے موقع پر اُن کے اعزاز میں ایک دعوت دی تو اُس موقع پر بڑی تعداد میں کھانے تیار کئے گئے جو موسیوسٹالن اور ان دوسرے لوگوں نے کھائے جو اس دعوت میں شریک تھے۔مسٹر چرچل جب انگلستان واپس گئے تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس دعوت کا ذکر کرتے ہوئے ایک موقع پر کہا کہ کاش ! مجھے اپنے کیپٹلسٹ ملک میں وہ کھانے متیسر آتے جو پر ولی ٹیری ایٹ (Protletariate) حکومت میں مجھے کھانے کو ملے۔اگر وہاں واقعہ میں مساوات پائی جاتی ہے تو کیا ماسکو کے ہر شہری کو اسی طرح ساٹھ ساتھ کھانے ملا کرتے ہیں ؟ اگر نہیں تو یہ ا مور صاف طور پر بتاتے ہیں کہ کامل مساوات کا سوال ابھی حل نہیں ہوا اور نہ حل ہو گا۔تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ مجبوری تھی کیونکہ ان جنگ کے دنوں میں انگلستان کی حکومتی دعوتیں بھی بہت سادہ ہوتی ہیں۔اس سے بہت سادہ دعوت بھی کافی ہو سکتی تھی مگر اصل میں تو روسی دبدبہ دکھانا مدنظر تھا اور یہ جذ بہ مساوات کی روح کو کچلنے کا موجب ہوا کرتا ہے۔دوسرے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ مساوات کے معنی روس میں بدل رہے ہیں اور ایک نیا طبقہ امراء کا وہاں پیدا ہورہا ہے جس کی بنیاد کمیونسٹ پارٹی میں پیدا کئے ہوئے رسوخ پر ہے۔پس مساوات کی شکل بدلی ہے چیز اسی طرح قائم ہے جس طرح پہلے تھی۔اس تقریر کے مسودہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایک خبر روس کی اس عدم مساوات کے بارہ میں ملی ہے جسے میں اس جگہ نقل کر دینا چاہتا ہوں کیونکہ وہ میرے مضمون کے اس حصہ پر روشنی ڈالتی ہے اور اس کی تائید میں ہے۔آسٹریلیا کے مشہور اخبار ”سن“ نے اپنے کنبرا کے نامہ نگار کی رپورٹ پر یہ خبر شائع کی ہے کہ آسٹریلین وزیر متعینہ روس نے اپنی رخصت کے ایام میں آسٹریلیا کی پارلیمنٹری سنسر پارٹی کی ایک مجلس میں مندرجہ ذیل واقعات بیان کئے۔(1) روس میں ایک نئی دولت مندوں کی جماعت پیدا ہو رہی ہے کیونکہ عام لوگوں کی نسبت کمیونسٹ پارٹی کے سربرآوردہ ممبروں اور دصنعتی ماہروں سے بہت ہی زیادہ بہتر سلوک کیا جاتا ہے۔(۲) ریسٹور میٹوں RESTAURANT) میں پانچ قسم کی غذا تیار ہوتی ہے جس کے ٹکٹ