انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 110

انوار العلوم جلد ۱۸ 11 + اسلام کا اقتصادی نظام کیا ہے جو SOVIET UNIOR“ کے ماہ جون کے پرچہ میں شائع ہوا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں ” روسی گورنمنٹ نہیں چاہتی کہ روس کی قوم آزادی سے اور بغیر کسی روک کے ہمارے خیالات سے یا کسی اور خیال سے جو روسی نہ ہو واقف ہو سکے ، پھر کہتے ہیں۔" کہ کوئی شخص روسی طرز زندگی کو براہِ راست نہیں سمجھ سکتا بجز روسی سرکاری ذرائع کے۔اور یہ مشکل ابھی کتنے ہی سال تک رہے گی، پھر ابھی پچھلے دنوں روس کے ماہرین یہاں آئے تھے۔امریکہ کے بعض ماہرین بھی اُن کے ساتھ تھے۔وہ سب سے زیادہ ہندوستان کی حالت کو دیکھ کر حیران ہوئے کیونکہ اُن کے پاس تو ایک پیسہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ سفر کر سکیں لیکن ہندوستان کا ہر شخص جہاں جی چاہے آسانی کے ساتھ آ جا سکتا ہے اس لئے جب انہوں نے اپنی حکومت کے خرچ پر ہندوستان کو دیکھا تو انہیں یہ ملک اس طرح نظر آیا جیسے مرکر انسان اگلے جہان کو دیکھتا ہے۔یہ نتیجہ تھا اُن کی ناواقفیت کا مگر آخر یہ کولڈ سٹوریج میں رکھنے کا معاملہ کب تک چلے گا۔ایک دن یہ دیوار ٹوٹے گی اور دُنیا ایک زبر دست تغیر دیکھے گی۔روسی اقتصادیات کے متعلق روس کی عملی مساوات میں بھی مجھے شبہ ہے۔مگر وہاں کے پورے حالات چونکہ معلوم نہیں ہوتے اس لئے بعض غور طلب باتیں زیادہ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔لیکن مجھے قطعی طور پر معلوم ہوا ہے کہ روسی سپاہی کا لباس نہایت بوسید ہوتا ہے۔یہ رپورٹیں مجھے اپنی جماعت کے بعض احمدی افسروں اور بعض احمدی سپاہیوں نے پہنچائی ہیں جنہیں فوج میں ایسے مقامات پر کام کرنے کا موقع ملا جہاں روسی افسر اور روسی سپاہی بھی اُن کیساتھ تھے۔انہوں نے بتایا کہ روسی سپاہی کا لباس خصوصاً ایشیائی سپاہی کا لباس نہایت ادنیٰ ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں مارشل تو موشنکو اور مارشل کو نیف کی تصویروں کو دیکھا جائے تو انہوں نے نہایت قیمتی تمغے لگائے ہوئے ہوتے ہیں اور ان کا لباس بھی بڑا خوبصورت ہوتا ہے۔مارشل کا تمغہ ساٹھ ہزار کی قیمت کا ہوتا ہے۔اس تمغہ سے ہی اقتصادی مساوات کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔مساوات کے دعوی کی عملاً تغلیط پھر کمیونزم میں جو مساوات پائی جاتی ہے اُس کا اِس سے بھی اندازہ ہوسکتا ہے کہ