انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xii of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page xii

انوار العلوم جلد ۱۸ تعارف کتب کو عام کرنے کیلئے ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں۔چنانچہ فرمایا کہ:۔” صدرا انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ چار پانچ حفاظ مقر ر کرے جن کا کام یہ ہو کہ وہ مساجد میں نمازیں بھی پڑھایا کریں اور لوگوں کو قرآن کریم بھی پڑھا ئیں۔اسی طرح پر جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے اُن کو ترجمہ پڑھا دیں۔اگر صبح و شام وہ محلوں میں قرآن پڑھاتے رہیں تو قرآن کریم کی تعلیم بھی عام ہو جائے گی اور یہاں مجلس میں بھی جب کوئی ضرورت پیش آئے گی تو ان سے کام لیا جا سکے گا۔بہر حال قرآن کریم کا چرچا عام کرنے کے لئے ہمیں حفاظ کی سخت ضرورت ہے۔انجمن کو چاہئے کہ وہ انہیں اتنا کافی گزارہ دے کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر گزارہ کر سکیں۔پہلے دو چار آدمی رکھ لئے جائیں پھر رفتہ رفتہ اس تعداد کو بڑھایا جائے“۔(۱۳) کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم با ترجمہ نہ آتا ہو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے یہ روح پرور تقریر مؤرخہ ۹ رمئی ۱۹۴۶ء کو بعد نماز مغرب قادیان میں ارشاد فرمائی۔اس مضمون میں حضور نے حفاظت قرآن نیز مختلف قراءت پر روشنی ڈالی اور تلقین فرمائی ہے کہ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم با تر جمہ نہ آتا ہو۔اس تعلق میں آپ نے فرمایا کہ:۔جب تک لوگ قرآن کی تعلیمات کو نہیں اپنا ئیں گے، جب تک قرآن کریم کو اپنا رہبر نہیں مانیں گے یہ اُس وقت تک چین کا سانس نہیں لے سکتے۔یہی دنیا کا مداوا ہے۔ہماری جماعت کو کوشش کرنی چاہئے کہ دنیا قرآن کریم کی خوبیوں سے واقف ہو اور قرآن کریم کی تعلیم لوگوں کے سامنے بار بار آتی رہے تا کہ دنیا اس مامن کے سایہ تلے آکر امن حاصل کرے۔