انوارالعلوم (جلد 18) — Page 80
انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام یہ قانون ضرور قائم رہنا چاہئے ورنہ زار کو پھانسی پر لگا یا نہیں جاسکے گا۔لینن کی زار سے یہ انتہا درجہ کی دشمنی جس کی وجہ سے اُس نے پھانسی کی سزا کو منسوخ نہ ہونے دیا محض اس وجہ سے تھی کہ اُس کے بھائی کو زیا رسٹ حکومت نے کسی جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔لین کے دل میں اپنے بھائی کی شدید محبت تھی اس لئے اُس نے چاہا کہ پھانسی کا قانون قائم رہے تا کہ وہ اپنے بھائی کی موت کا بدلہ زار سے لے سکے اور اُسے پھانسی پر لٹکا کر اپنے دل کو ٹھنڈا کر سکے۔غرض رشتہ داروں کا دکھ بھی اتنا سخت ہوتا ہے کہ روٹی کا دُکھ اُس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔مگر کیا کوئی بھی گورنمنٹ اس میں مساوات قائم کر سکتی ہے اور کیا کوئی شخص کسی گورنمنٹ سے اپنے رشتہ داروں کی زندگی کا بیمہ لے سکتا ہے؟ پس دل کا چین اور حقیقی راحت بغیر مذہب اور خدا تعالیٰ سے تعلق کے حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ یہ امور اسی کے اختیار میں ہیں۔تم روٹی بیشک برابر کی دے دو، کپڑا بے شک یکساں دے دو لیکن انسان کو حقیقی چین اُس وقت تک حاصل نہیں ہوگا جب تک اُس کا خدا سے تعلق نہ ہو کیونکہ روٹی کپڑے کے علاوہ ہزاروں چیزیں ہیں جن میں کمی بیشی سے دل کا چین جاتا رہتا ہے اور اُن کا دین محض اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کمیونزم کی حق ملکیت میں دخل اندازی (۲) روس، زار کے زمانہ میں صنعتی ملک نہ تھا بلکہ بڑے بڑے زمینداروں کا ملک تھا اس لئے کمیونزم کو براہ راست تعلق زمینوں سے تھا نہ کہ صنعت سے۔کارل مارکس نے اگر سرمایہ داری پر کچھ لکھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جرمنی میں پکا اور وہیں کی یونیورسٹی میں اُس نے تعلیم پائی۔لیفن وغیرہ نے جب اُس کے فلسفہ کو اپنایا تو اس کی تعلیم سرمایہ داری کو زمینداری طریق پر چسپاں کرنے کی کوشش کی اور یہ اصول مقرر کیا کہ: (1) زمین حکومت کی ہے۔(۲) اس لئے ملک کی سب زمینوں کو لے کر اُس آبادی میں جو خو د زمیندارہ کام کرے زمین تقسیم کر دینی چاہئے۔(۳) جس قدر زمین میں کوئی ہل چلا سکے اُسی قدر زمین اُس کے پاس رہنے دینی چاہئے اس سے زائد نہیں