انوارالعلوم (جلد 17) — Page 44
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۴ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) اور اگر بیٹا سمجھے کہ اس جائداد کے بغیر وہ گزارہ نہیں کر سکے گا تو اُس کا حق ہے کہ فروخت کردہ جائداد حاصل کرنے کی کوشش کرے ورنہ اگر باپ نے ایسا کیا تھا اور اُس کا حق مارا تھا تو بیٹے کو چاہئے کہ وہ نا خلف نہ بنے۔اور اگر باپ بیٹے میں لڑائی جھگڑا نہیں وہ اکٹھے رہتے ہیں تو ایسی صورت میں زمین خریدنے والے سے جا کر بیٹے کا لڑنا دھوکا بازی ہوگی کہ باپ نے روپیہ لے لیا اور بیٹے سے دعویٰ دائر کرا دیا۔اگر اسے قانون جائز قرار دے اور آج تک کے سارے وائسرائے لکھ دیں کہ ایسا کرنا جائز ہے تو بھی یہ جائز نہ ہوگا۔دنیا کی کون سی اسمبلی ہے جو اس بات کو جائز قرار دے سکے جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جائز قرار نہیں دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ میں بھی انسان ہوں اور ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص زیادہ باتیں کرنے والا ہو اور میں اُس کے حق میں فیصلہ کر دوں۔اس طرح میں جسے کچھ دلا دوں وہ اُس کیلئے دوزخ کا ٹکڑا ہو گا لیے پس جب خلاف حق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ بھی امن پیدا نہیں کر سکتا اور خدا تعالیٰ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا تو انگریز جو صرف سیاست سے تعلق رکھتے ہیں وہ ایسے کیونکر ہو سکتے ہیں کہ وہ کسی ایسی بات کو جائز قرار دے دیں جسے خدا تعالیٰ نے ناجائز قرار دیا ہے۔مجھے اِس سلسلہ میں ایک اور تکلیف دہ تجربہ ہوا ہے اور وہ یہ کہ جب بیٹے کی طرف سے باپ کی فروخت کی ہوئی زمین کے خلاف نالش ہوئی تو جس شخص کے پاس زمین بیچی گئی تھی وہ غیر احمدی تھا۔مگر اُس نے مجھے لکھا کہ میں احمدی ہوں اور مجھ پر احمد یوں کی طرف سے ظلم کیا جا رہا ہے۔میں نے کہا اس میں احمدی اور غیر احمدی کا کیا سوال ہے جس بیٹے نے باپ کی فروخت کردہ زمین کے خلاف نالش کی ہے اُس نے غلطی کی ہے۔اس پر احمدیوں کے خط آنے شروع ہو گئے کہ اس نے آپ کو دھوکا دیا ہے وہ غیر احمدی ہے۔بے شک اُس نے غلطی کی کہ احمدی نہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو احمدی کہا مگر انصاف کے معاملہ میں احمدی اور غیر احمدی کا کیا سوال ہے۔غیر احمدی نہیں اگر کوئی دہر یہ ہو تو اُس سے بھی انصاف کرنا ضروری ہے۔حضرت خلیفہ اول کی ایک لڑکی احمدیت سے پہلے امرتسر کے غزنویوں کے خاندان میں بیاہی گئی تھی۔آپ جب قادیان تشریف لاتے تو امر تسر بھی اُترتے۔ایک دن آپ نے اُن کے