انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 542

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴۲ الموعود نہیں آتا۔وہ پکے مولوی ہیں۔اگر میرے سامنے وہ تفاسیر ہوں گی تو آخر وہ تفاسیر ان کے سامنے بھی تو ہوں گی۔اگر میں نے اُن سے کچھ چرا لینا ہے تو مولوی صاحب بھی تو چرا سکتے ہیں۔علومِ جدیدہ کی میرے پاس کوئی خاص تفاسیر تو نہیں ہیں جو میں نے چھپا رکھی ہیں۔پھر ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کریم تو عربی میں ہے اور تفسیر میں بھی عربی میں ہیں۔اُن کے نزدیک جب میں عربی جانتا ہی نہیں اور اسی لئے وہ بے ترجمہ قرآن رکھنے کی شرط پیش کرتے ہیں تو اُن کو یہ کیونکر خیال پیدا ہو گیا کہ میں عربی تفسیروں سے مضمون چرالوں گا۔پھر قرآن تو صرف عربی میں ہے مگر تفاسیر میں علم صرف کے مضامین بھی آتے ہیں ، علم نحو کے مضامین بھی آتے ہیں، علم کلام کے مضامین بھی آتے ہیں، علم فلسفہ کے مضامین بھی آتے ہیں، علم منطق کے مضامین بھی آتے ہیں۔اگر ایک شخص قرآن کریم کا ترجمہ تک نہیں جانتا تو وہ ان تفسیروں سے مختلف مضامین کس طرح چرا سکتا ہے۔پس میں نہیں سمجھتا کہ ایسی شرائط کو پیش کرنے سے اُن کی غرض کیا ہے۔سوائے اس کے کہ وقت ضائع کیا جائے مگر مجھے خدا تعالیٰ نے اس لئے کھڑا نہیں کیا کہ میں کھیل میں اپنے وقت کو ضائع کر دوں۔مجھے بعض دفعہ یہ بھی خیال آیا کرتا ہے کہ ممکن ہے اُن کا خیال ہو کہ میں بعض ایسی تفسیریں اپنے ساتھ چھپا کر لے جاؤں گا جو اُن کے پاس نہیں ہوں گی اور اس طرح میں غالب آ جاؤں گا۔اگر اُن کو یہ خیال ہو تو میں اعلان کرتا ہوں کہ مجلس میں بیٹھ کر اگر وہ میری تفسیروں کو دیکھنا چاہیں تو وہ اُن کو دیکھ سکتے ہیں۔وہ اُن سب کے نام نوٹ کر لیں اور پھر حوالہ دیکھنے کے لئے جس کتاب کی ضرورت ہو وہ بیشک مجھ سے مانگ لیں میں اُن کو وہ کتاب حوالہ دیکھنے کے لئے عاریتاً بھجوا دوں گا۔میں جیسا کہ بتا چکا ہوں ہمیشہ یہ شرط پیش کیا کرتا ہوں کہ قرعہ ڈال کر قرآن کریم کے بعض رکوع نکال لئے جائیں اور پھر وہ بھی بیٹھ جائیں اور میں بھی بیٹھ جاؤں اور ہم دونوں قرآن کریم کے اُن رکوعوں کی تفسیر لکھیں۔مگر شرط یہ ہوگی کہ تفسیر میں ایسے ہی مضامین بیان کئے جائیں جو پہلی تفسیروں میں نہ آچکے ہوں اور پھر صرف نحو اور لغت وغیرہ علوم کے لحاظ سے سے وہ معنی درست ہوں۔اسی طرح قرآن کریم کے سیاق و سباق کے لحاظ سے بھی وہ معنی صحیح ہوں۔