انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 541

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴۱ الموعود۔یہ لکھ دیتے ہیں کہ صرف سادہ قرآن اور کاغذ، قلم، دوات لے کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنا ہو گا کسی اور کتاب کے پاس رکھنے کی اجازت نہیں ہو گی حالانکہ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ کیسی غیر معقول بات ہے اوّل تو ترجمہ یا بے ترجمہ قرآن کریم کا کوئی سوال ہی نہیں ہو سکتا لیکن معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب کی عقل اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ باوجود اس کے کہ اُنہوں نے میری متعدد کتابیں پڑھی ہوں گی پھر بھی وہ سمجھتے ہیں کہ جب میرے ہاتھ میں بے ترجمہ قرآن آیا تو میں اُن کے مقابلہ میں بالکل رہ جاؤں گا۔دوسرے یہ کہنا کہ اپنے پاس قرآن کریم کے علاوہ اور کوئی تفسیر کی کتاب نہ رکھی جائے یہ بھی بے معنی بات ہے۔اس لئے کہ میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں ایسی تفسیر لکھوں گا جس میں نئے مضامین ہوں گے پُرانے مضامین نہیں ہوں گے۔میں نے یہ نہیں کہا کہ میں پُرانی تفسیروں کا حافظ ہوں۔وہ اگر اپنے آپ کو پُرانی تفسیروں کا حافظ سمجھتے ہیں تو بے شک اس کا اعلان کر دیں۔لیکن میں پُرانی تفسیروں کا حافظ نہیں اور جب میرا دعویٰ یہ ہے کہ میں اپنی تفسیر میں ایسی نئی باتیں لکھوں گا جو پُرانے مفسرین نے نہیں لکھیں تو اس لحاظ سے ضروری ہے کہ اس وقت میرے پاس تفسیر میں بھی موجود ہوں تا کہ میں صرف وہ مضامین بیان کروں جو نئے ہوں کوئی ایسا مضمون بیان نہ کروں جو پہلے کسی تفسیر میں لکھا ہوا ہو۔پھر میں نے اس امر کی طرف بھی اُن کو توجہ دلائی ہے کہ اگر تفسیروں کے موجود ہونے سے یہ خیال ہو سکتا ہے کہ شاید میں اُن تفسیروں میں سے کچھ پھر الوں تو پھر تو اُن کو بڑا اچھا موقع میسر آ سکتا ہے اور وہ ساری دنیا میں شور مچا سکتے ہیں کہ دیکھ لو دعوی تو یہ تھا کہ میں ایسے معارف بیان کروں گا جو جدید ہوں گے مگر فلاں فلاں مضمون ، فلاں فلاں تفسیر سے چرا لیا گیا ہے اس صورت میں تو اُن کی فتح اور کامیابی یقینی ہے کیونکہ میرا دعوی یہ ہے کہ میں ایسی باتیں بیان کروں گا جو پہلی تفسیروں میں نہیں آئیں۔پس اگر میں ان تفسیروں میں سے کچھ چھالوں گا تو وہ اعلان کر دیں گے کہ دعوئی تو یہ کیا گیا تھا کہ میں نئے علوم اور نئے معارف پیش کروں گا مگر فلاں فلاں بات امام رازی یا علامہ ابن حیان بھی بیان کر چکے ہیں اس صورت میں میرا چیلنج خود بخود باطل ہو جائے گا۔پھر سوال یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو یہ خیال کیونکر پیدا ہو گیا ہے کہ مجھے پرانی تفسیروں میں سے کچھ چرانا زیادہ آتا ہے اور اُن کو