انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 512

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۲ الموعود ظاہر تین سو یا چار سو سال کے بعد ہوا ہو کیونکہ الہام اس بات کی تعیین کرتا ہے کہ آنے والے موعود کو بہر حال ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء سے ۲۰ فروری ۱۸۹۵ ء تک کے عرصہ کے اندراندر پیدا ہو جانا چاہئے اس عرصہ کے بعد پیدا ہونے والا کوئی شخص اس پیشگوئی کا مصداق نہیں ہوسکتا۔مصلح موعود کی پیدائش پھر فرمایا کہ الہام الہی نے بتایا تھا کہ: - اول کے ساتھ مقدر تھی اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئے گا“۔اس سے بھی ظاہر ہے کہ مصلح موعود کی پیدائش بشیر اوّل کے ساتھ وابستہ ہونی چاہئے ورنہ یہ کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ بشیر اول فوت ہو جائے اور اس کے تین یا چار سو سال کے بعد مصلح موعود ظاہر ہو اور اُس کے متعلق یہ کہا جائے کہ یہ بشیر اول کے ساتھ آیا ہے۔کوئی انسان ایسا نہیں ہوسکتا جو دو مختلف زمانوں میں پیدا ہونے والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ آنے والا کہہ سکے۔پھر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ بشیر اول جو پیدا ہو کر فوت ہو گیا اُس کے ساتھ آنے والا اُس شخص کو قرار دیا جائے جو تین یا چار سو سال کے بعد ظاہر ہو۔اگر اس طرح ایک کی پیدائش دوسرے کے ساتھ وابستہ سمجھی جاسکتی ہے تو پھر تو کوئی شخص یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ میں آدم کے ساتھ پیدا ہوا تھا۔مگر ہر شخص جانتا ہے کہ یہ بات غلط ہے۔”ساتھ“ کے مفہوم میں یہ بات داخل ہوتی ہے کہ دوسرا پیدا ہونے والا اتنا قریب ہو کہ اُسے پہلے کے ساتھ کہا جا سکے۔ظلمات اور رعد و برق پھر فرمایا کہ أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيْهِ ظُلُمَتٌ وَّرَعْدٌ و برق کے الہام میں ظلمات سے مراد بشیر اول کی موت ہے اور رعد و برق سے مراد دوسرے بشیر کا ظہور ہے۔اس الہام میں ایک ہی نام دونوں کے رکھ کر یعنی صیب قرار دے کر دو ظہوروں کی خبر دینا بتاتا ہے کہ دونوں ایک ہی زمانہ میں ہوں گے۔بشیر اول کا ظہور فِيهِ ظُلمت والے حصہ کی صداقت کا ثبوت ہوگا اور بشیر ثانی کا ظہور رعد اور برق والے حصہ کی صداقت کا ثبوت ہو گا۔گویا با دل تو ایک ہی ہے مگر اس کے نتائج تین ہیں۔ہر بادل جو آسمان پر آتا ہے اُس کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ تاریکی پیدا کر دیتا ہے اس کے بعد جب بارش برستی ہے تو اس کے نتیجہ میں رعد پیدا ہوتی ہے اسی طرح بجلی کے چمکنے سے روشنی ظاہر