انوارالعلوم (جلد 17) — Page 440
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۴۰ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) وہ کو مانا جا سکے تو ماں باپ کا سب سے زیادہ حق ہے اُن کی رائے مان لی جائے۔مگر مذہب کے بارہ میں تو ماں باپ کی رائے کو ماننے کی بھی اجازت اسلام نے نہیں دی۔جب کوئی شخص مذہب کو تبدیل کرنے لگے تو اُس کے ماں باپ اور بہن بھائی اُس کی مخالفت کرتے اور اُسے یہی مشورہ دیتے ہیں کہ ایسا نہ کرے۔اب اگر مذہب کے بارہ میں جائز ہو تو ماں باپ کی رائے کو کیوں نہ مانا جائے۔اگر مذہب کے بارہ میں بھی جائز ہو تو کوئی شخص مذہب کو تبدیل کر ہی نہیں سکتا۔جب بھی کوئی مذہب تبدیل کرنے لگے اُس کے ماں باپ اور بھائی بہن یہی کہتے ہیں کہ وہ غلطی کرنے لگا ہے اور اگر کسی غیر شخص کو مذہب کے معاملہ میں حج ماننا جائز ہو تو ماں باپ کی رائے کو ہی کیوں نہ مانا جائے۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے میں کسی صورت میں نہیں مان سکتا میری تو یہ حالت ہے کہ باوجودیکہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر میں پیدا ہوا۔ابھی میری عمر گیارہ برس کی تھی کہ میں نے ایک دن خیال کیا کہ کیا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اِس لئے مانتا ہوں کہ میں اُن کا بیٹا ہوں یا میرے پاس اُن کی صداقت کے ثبوت ہیں۔میں اُس وقت گھر سے باہر تھا اور میں نے خیال کیا کہ اگر میرے پاس ان کی صداقت کے ثبوت نہیں ہیں تو میں گھر میں واپس نہ جاؤں گا بلکہ یہیں سے اسی وقت کہیں باہر چلا جاؤں گا۔جب میں نے اپنے دل میں اس سوال کو حل کرنا شروع کیا کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے دعوی میں بچے ہیں یا نہیں؟ تو میں نے اس سوال کو قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں حل کرنا چاہا۔اس پر مجھے خیال آیا کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی صداقت کے ثبوت میرے پاس ہیں؟ یا میں ان کو بھی اسی لئے سچا سمجھتا ہوں کہ میں نے ماں باپ سے سنا ہے کہ یہ سچے ہیں۔تب میں نے اپنے دل میں اس سوال پر بحث شروع کی کہ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم بچے ہیں؟ اس سوال پر غور کرتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کیا توحید الہی کے ثبوت میرے پاس ہیں؟ یا میں اسے صرف اس لئے مانتا ہوں کہ میرے ماں باپ اس کے قائل ہیں۔تب میں نے خدا تعالی کی پیدا کی گئی کائنات اور