انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 435

انوار العلوم جلد ۷ ۴۳۵ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) اور ہمیں ہمت اور حوصلہ عطا کرے تا کہ ہم ہر گھڑی اور ہر لحظہ اُس کی یاد کو سب یادوں پر مقدم کر سکیں ، اُس کی محبت کو سب محبتوں اور اُس کے کام کو سب کا موں پر مقدم کرنے والے ہوں۔ہماری زندگی بھی اور ہماری موت بھی اُس کے لئے ہو تا جب ہم اُس کے حضور جائیں تو ہمارا جانا ہمارے عزیزوں کے لئے دُکھ اور غم کا موجب ہو ہمارے لئے خوشی کا موجب ہو کہ ہم ادنیٰ کو چھوڑ کر اعلیٰ کی طرف جا رہے ہیں اور چھوٹے پیار کرنے والوں کو چھوڑ کر بڑے پیارے کرنے والوں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔( الفضل جلسہ سالا نہ نمبر ۱۹۶۳ء) اس کے بعد میں اللہ تعالیٰ کا اِس امر پر شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ہمارے ایک کھوئے ہوئے مبلغ کے متعلق جن کی زندگی کے بارہ میں اکثر دوست مایوس تھے حال ہی میں یہ اطلاع آئی ہے کہ وہ جاپانیوں کی قید میں ہیں۔جہاز کے غرق ہونے کے بعد جن لوگوں کو بچا لیا گیا اُن کی فہرست میں ان کا نام بھی ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ انہیں اپنے فضل سے محفوظ رکھے اور خیر وعافیت سے واپس لائے۔اسلام کا یہ سپاہی بے وقت اپنی جان نہ کھوئے اور اس کے تجربات سے جو اس نے یورپ کے مختلف ممالک میں حاصل کئے اسلام اور احمدیت پورا پورا فائدہ اُٹھا سکیں۔مولوی محمد الدین صاحب اگر چه انگریزی علوم سے نا واقف تھے اور اُن کو تجربہ بھی نہ تھا مگر یورپ میں تبلیغ کے زمانہ میں ایسا اعلیٰ نمونہ دکھایا کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔وہ پہلے البانیہ گئے اور وہاں تبلیغ شروع کی متعد دلوگ داخلِ اسلام بھی ہوئے مگر مخالفین نے حکومت کے پاس شکایات کیں کہ یہ شخص مذہب کو بگاڑ رہا ہے۔البانیہ کی حکومت مسلمان تھی مسلمانوں نے شور کیا اور کنگ زد عز نے آرڈر دے دیا کہ مولوی صاحب کو وہاں سے نکال دیا جائے۔پولیس ان کو پکڑ کر سرحد پر چھوڑ آئی۔وہاں سے نکالے جانے پر انہوں نے یونان میں تبلیغ شروع کر دی اور میرے لکھنے پر وہاں سے یوگوسلاویہ چلے گئے۔البانیہ کی سرحد یوگوسلاویہ سے ملتی ہے۔میں نے لکھا کہ وہاں بھی تبلیغ کرتے ہیں اور ان کی تبلیغ سے بعض ایسے لوگ بھی مسلمان ہوئے جو مسلمانوں کے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے شامل