انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 415

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۱۵ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات کہتے ہیں ایک آوارہ گر دلڑکا تھا۔اُس کی ماں اُس سے بہت محبت کرتی تھی جو محبت غلط قسم کی تھی وہ اُس کو کسی بُرائی سے نہیں روکتی تھی۔شروع شروع میں جب وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی چوری کرتا تو وہ اُسے منع نہ کرتی اور اگر کوئی اُس کی ماں سے شکایت کرتا تو کہہ دیتی کہ میرا بچہ تو ایسا نہیں۔یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے اُس نے بڑی بڑی چوریاں شروع کر دیں اور قتل و غارت تک نوبت پہنچی۔آخر کسی کو قتل کرنے کے جرم میں پکڑا گیا اور اُس کو پھانسی کی سزا ملی۔جب پھانسی کا وقت قریب آیا تو حکام نے کہا اگر تمہاری کوئی خواہش ہو یا کسی سے ملنا چا ہو تو ہم اس کا انتظام کر دیں۔اُس نے کہا ہاں میری ماں کو بلو ا دو میں اُس سے ملنا چاہتا ہوں۔چنانچہ جب اُس کی ماں کو بلوایا گیا تو اُس نے اپنی ماں سے کہا میں کان میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ماں نے جب اپنا کان اُس کے قریب کیا تو اُس نے اتنے زور سے اُس کے کان پر کاٹا کہ وہ تڑپ اُٹھی۔جیل کے ملازم جو قریب ہی کھڑے تھے یہ نظارہ دیکھ کر کہنے لگے ارے ظالم ! تم ابھی چند منٹ کے اندر پھانسی کے تختے پر چڑھنے والے ہو پھر بھی ایسا ظلم کر رہے ہو یہ کہاں کی شرافت ہے کہ تم نے اس آخری وقت میں اپنی ماں کا کان کاٹ کھایا۔اُس نے کہا آج اسی ماں کی وجہ سے تو مجھے پھانسی کی سزا ملی ہے اگر یہ میری صحیح تربیت کرتی تو آج میں بھی نیک انسان ہوتا لیکن اِس نے میری صحیح تربیت نہ کی۔بچپن میں جب میں غلطیاں کرتا تو یہ ماں اُن غلطیوں پر پردہ ڈالتی اگر میں کسی کی کوئی چیز اُٹھا لاتا اور وہ اُس کی تلاش میں میرے پیچھے آتے تو یہ کہہ دیتی کہ میرا بچہ تو تمہاری چیز نہیں لایا۔اسی طرح آہستہ آہستہ میرے اخلاق بگڑتے گئے یہاں تک کہ میں ظالم، چور اور ڈاکو بن گیا اور آج میں ان گناہوں کی وجہ سے پھانسی کی سزا پانے والا ہوں۔پس عورت اسی صورت میں صحیح معنوں میں حوا کی بیٹی کہلا سکتی ہے جب وہ بچوں کی صحیح تربیت کرے اور اُن کے اخلاق کی نگرانی کرے۔اگر بچوں کے اخلاق کی نگرانی نہیں کرتی تو وہ ہرگز حوا کی بیٹی اور گھر کی مالکہ کہلانے کی مستحق نہیں۔پس حوا کی بیٹیوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی اولا د کی صحیح رنگ میں تربیت کریں۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا قوم میں جنت ماؤں کے ذریعہ ہی آتی ہے ، ہے کہ ماں کے قدموں