انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 414 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 414

انوار العلوم جلد ۷ ۴۱۴ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات کام کاج کرے، کھیتوں میں ہل چلائے اور زمین کو درست کر کے رہنے کے قابل بنائے۔اور حوا کے معنی ہیں وہ عورت جو گھر میں بیٹھتی ہے، بچوں کی نگرانی کرتی ہے اور گھر کی رانی کہلاتی ہے۔پس ہر عورت جو آج بھی ان صفات کو اپنے اندر رکھتی ہے یعنی گھر کی نگرانی کرتی ہے، بچوں کی تربیت کرتی ہے وہ حوا ہے اور ہر شریف آدمی جو محنت کرتا ہے اور کام کرتا ہے اور زمین کو رہنے کے قابل بناتا ہے وہی انسان صحیح معنوں میں آدمی ہے۔اور جو لوگ غفلت کی وجہ سے گھر میں بیٹھے مکھیاں مارتے ہیں اور محنت نہیں کرتے یا بعض امراء اور عیاش لوگ اپنے گھروں میں بیٹھے باپ دادا کی کمائیاں کھاتے ہیں اور کوئی کام نہیں کرتے وہ آدمی تو ہیں مگر صرف نام کے ، کام کے آدم نہیں کیونکہ آدم کے معنی ہیں جو باہر نکل کر کام کرے اور زمین کی درستی کر کے اُسے رہنے کے قابل بنائے۔اسی طرح وہ عورتیں جو گھر کی خبر گیری نہیں کرتیں، بچوں کی تربیت نہیں کرتیں ، گھر کے تمام سامانوں کا انتظام نہیں کرتیں اور اپنی اولاد کی تربیت اس رنگ میں نہیں کرتیں کہ آئندہ نسل نیک متقی ، بہادر اور جری اور دین کی خاطر ہر طرح کی قربانی کرنے والی اور دین کا علم حاصل کرنے والی ہو وہ اور ہیں حوا کی بیٹیاں صرف نام کی ہیں کام کی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے بچوں کو اپنے اردگر د جمع نہیں کیا اور صحیح طور پر گھر کی مالکہ ہونے کا ثبوت نہیں دیا اور جیسا کہ گھر کی مالکہ کا حق تھا۔بچوں کی بہتری اور اُن کی تربیت کا خیال رکھے اس حق کو ادا نہیں کیا اور اولاد کی نگرانی کا جو اُن پر فرض تھا اس فرض کو ادا نہیں کیا۔پس وہ عورت جو بچوں کو اپنے ارد گرد جمع کر کے اُن کی بہتری اور اُن کی تربیت کے سامان نہیں کرتی اور گھر کے کاموں کی نگرانی نہیں کرتی وہ ہوا ہے مگر صرف نام کی نہ کہ کام کی۔پس اگر ایک عورت حوا کی حقیقی بیٹی کہلانا چاہتی ہے تو اُس کا فرض ہے کہ گھر کے انتظام کو درست رکھے، اولاد کی صحیح تربیت کرے، ایسی تربیت کہ وہ گھر کی مالکہ کہلانے کی مستحق ہو۔مالک کے یہ معنی ہیں کہ اس کے ماتحت اس کے فرمانبردار ہوں لیکن اگر ایک عورت بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت نہیں کرتی تو اولا د نا فرمان ہوگی کیونکہ صحیح تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بچوں میں یہ عادت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ بات نہیں مانتے اور پھر اُن میں بدی کی عادت ترقی کرتی چلی جاتی ہے۔