انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 408

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۰۸ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات نام بدل کر اُس کی جگہ اور نام رکھ لیا جائے تو اُس کے معنوں میں فرق نہیں پڑے گا لیکن عربی کا نام اگر بدل کر اور نام رکھ دیا جائے تو یقیناً اس کے معنوں میں فرق پڑ جائے گا۔مثلاً اُتم کا لفظ لے لو۔اُتم کے معنی عربی زبان میں جڑا اور مقصود کے ہیں یعنی ایسی چیز جس میں سے اور چیزیں نکلیں اور جس کی طرف دوسرے متوجہ ہوں۔اب اگر ماں کے لئے اُتم کی جگہ عربی میں کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے تو یہ معنی بالکل بدل جائیں گے لیکن اگر پنجابی میں یا اُردو میں ماں کی جگہ کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے مثلاً پاں کہ لیا یا تاں کہہ لیا جائے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔چاہے ب۔الفن کہہ لیں یات - الف - ن کہہ لیں یا د - الف - ن کہہ لیں اور جو چاہیں اس سے مراد لے لیں معنوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن عربی کے لحاظ سے اگر ہم نام کو بدل دیں تو وہ نام بے معنی ہو جائے گا۔وہ صرف علامت ہوگی اُس کے کوئی معنی نہیں ہوں گے جیسے اُتم کا لفظ ہے اس کی بجائے عربی میں اگر ہم کم کہہ دیں گے تو وہ صرف علامت رہ جائے گی اس کے وہ معنی نہیں ہوں گے جو اُتم کے لفظ میں پائے جاتے ہیں۔ماں کو عربی میں اُتم اس لئے کہتے ہیں کہ یہ بطور جڑ ہے بچوں کیلئے۔دوسرے بچے اپنی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس کے محتاج ہوتے ہیں۔پس اُتم کے معنی عربی زبان میں اُس چیز کے ہیں جو بطور جڑ کے ہو اور جس کی طرف دوسرے لوگ متوجہ ہوں اور ماں کو اسی لئے اُتم کہتے ہیں کہ یہ بطور جڑ ہے نیز بچوں کی تربیت کا مرکزی مقام ہے جس کی طرف بچے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے متوجہ ہوتے ہیں۔اب اگر اُم کا لفظ بدل کر اس کی جگہ پر کوئی اور لفظ رکھ دیا جائے تو اِس لفظ سے ہرگز یہ معنی پیدا نہیں ہوں گے جو اُتم کے لفظ سے پیدا ہوتے ہیں صرف ایک علامت رہ جائے گی۔اسی طرح ہمارے قرآنِ مجید میں بنی نوع یعنی مرد اور عورت کا جو مشتر کہ نام ”انسان“ رکھا ہے۔یہ ”انسان“ کا لفظ بھی ایک بامعنی لفظ ہے۔اصل میں یہ لفظ انسان ہے جس کے معنی ہیں دو محبتیں۔پس یہ لفظ جو مرد اور عورت دونوں پر مشتمل ہے اس کے معنی ہیں ایسا وجو د جو دو محبتوں کا ظاہر کرنے والا ہے۔یعنی ایک طرف یہ لفظ اُس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو خدا اور بندے کے درمیان ہے اور دوسری طرف اُس تعلق کو ظاہر کرتا ہے جو بندوں کو بندوں سے ہے۔پس انسان کے معنی ہیں وہ وجود جو ایک طرف خدا سے محبت کرنے والا ہو اور دوسری