انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 9

انوار العلوم جلد ۷ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ ء ) بیٹھی ہوئی ہیں جب وہ باوجو د تنگ اور سمٹ کر بیٹھنے کے اور دھوپ میں ہونے کے بھوک اور پیاس کو روک سکتی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ سٹیج والیاں روک نہیں سکتیں ؟ ہاں بیمار اس سے مستثنی ہیں۔اکا دُکا بیمار ہوتی رہتی ہیں مگر یہ خیال کرنا کہ سب یہاں بیمار بیٹھی ہیں غلط ہے۔شاذ و نادر ہی کوئی بیمار ہے۔مثلاً اُس کا دل کمزور ہے تو اُس پر رحم کرنا چاہئے نہ کہ اعتراض۔بہر حال مستورات کے سٹیج کے متعلق موجودہ نظام درست نہیں۔اس سلسلہ میں میں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ سٹیج کا نظام قابل اصلاح ہے۔مردوں کے سٹیج پر کسی کو اس لئے جگہ نہیں دی جاتی کہ وہ مال دار ہے یا کسی اونچے طبقے سے تعلق رکھتا ہے وہاں صرف اُن کو جگہ دی جاتی ہے کہ جو بیرونی جماعتوں کے پریذیڈنٹ یا سیکرٹری ہیں اور اُن سے اُمید کی جاتی ہے کہ جب وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں گے تو جماعتوں کو یہاں کے حالات سُنا ئیں گے سوائے اُن کے جو غیر احمدی ہوتے ہیں یا بیمار یا اونچاسُننے والے کہ وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔میں سمجھتا ہوں مستورات میں بھی ایسا ہی نظام ہونا چاہئے۔مختلف انجمنوں کی پریذیڈنٹ اور سیکرٹریوں کو بیٹھنے کا موقع دیا جائے یا مرکزی انتظام جن کے سپر دہوں وہ بیٹھ سکتی ہیں یا غیر احمدی جو باہر سے آتی ہیں وہ اتنی تکلیف برداشت کر سکتی ہیں اور یا پھر وہ بیٹھ سکتی ہیں جو معذور ہوں جو زمین پر زیادہ دیر نہ بیٹھ سکتی ہوں۔اسی طرح جلسہ گاہ کے آخر میں بیج لگا دیئے جائیں تا کہ بیمار اور معذورعورتیں بیٹھ سکیں۔میں اُمید کرتا ہوں که لجنہ اس بات کو نوٹ کر لے گی اور آئندہ سال اس قانون پر عمل کیا جائے گا۔صرف لجنات کی پریذیڈنٹ ، سیکرٹری یا بیمار یا پھر غیر احمدی عورتوں اور منتظمات کو ہی سٹیج پر جگہ دی جائے۔جن کو ان قواعد کے ماتحت بیٹھنے کا موقع نہ مل سکتا ہو آئندہ وہ نیچے بیٹھا کریں۔اس موقع پر افسر صاحب جلسہ سالانہ کی طرف سے رقعہ پیش کیا گیا کہ کل اور آج سٹیج پر کھانا نہیں کھایا گیا اور نہ ہی چائے تقسیم ہوئی ہے۔فرمایا ) یہ خوشی کی بات ہے کہ اس دفعہ کھانا نہیں کھایا گیا۔مگر اس قسم کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔جو کام انسان خدا کی خاطر کرتا ہے اُس پر جو اعتراض کئے جائیں وہ انسان کو بخوشی برداشت کرنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کی خاطر کام کرنے والا اعتراضوں پر خوش ہوتا ہے نہ کہ ناراض۔پس اعتراض ایک کان سے سننے چاہئیں دوسرے سے نکال دینے چاہئیں۔دین میں خدا کی