انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 8

انوار العلوم جلد ۷ Λ مستورات سے خطاب (۱۹۴۳ ء ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمُ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مستورات سے خطاب تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۳ء بر موقع جلسہ سالانہ۔قادیان) تشہد ، تعوذ ،سورۃ فاتحہ اور سورۃ الکوثر کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔جیسا کہ جماعت کے بھائی بہن اخبارات کے ذریعہ واقف ہیں گزشتہ مئی سے میری طبیعت بہت خراب چلی آتی ہے کھانسی اور گلے کی خرابی کی وجہ سے میں اچھی طرح بول نہیں سکتا اس وجہ سے آج میں مستورات کے جلسہ میں صرف تھوڑی دیر بولنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔اسی طرح مردوں میں جو تقریر ہوگی وہ بھی گزشتہ سالوں کی نسبت مختصر کرنی پڑے گی۔چونکہ مردوں کے جلسہ کی تقریر اب لاؤڈ سپیکر کے ذریعہ عورتیں بھی سُن سکتی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ اس تیسری تقریر کی کوئی خاص ضرورت نہیں مگر چونکہ فطری طور پر اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں میں مقابلہ کی روح پیدا کی ہے اِس لئے اُن کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے چند منٹ بولنے کے لئے یہاں آ گیا ہوں۔پیشتر اس کے کہ میں اس سورۃ کے متعلق بیان کروں ناظمات جلسہ کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میرے پاس شکایت آئی ہے کہ سٹیج پر بیٹھنے والی عورتوں میں چائے تقسیم ہوتی ہے جس پر دوسری عورتیں بُرا مناتی ہیں۔میرے نزدیک سٹیج پر بیٹھنے والی بہنوں کو اپنی دوسری بہنوں کے احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اور آئندہ ایسی غلطی نہیں ہونی چاہئے۔اگر پہلے اس قسم کی کوئی غلطی ہوتی رہی ہے تو آئندہ اس سے اجتناب کیا جائے۔بھوک اور پیاس ایسی چیزیں ہیں کہ مسیح پر بیٹھنے والیوں کو ویسی ہی بھوک اور پیاس لگتی ہے جیسی کہ نیچے بیٹھنے والیوں کو۔وہ عورتیں جو نیچے