انوارالعلوم (جلد 17) — Page 356
انوار العلوم جلد ۷ ۳۵۶ میری مریم رشتہ داروں سے محبت میری مریم کو میرے رشتہ داروں سے بہت محبت تھی وہ ان کو اپنے عزیزوں سے زیادہ پیار کرتی تھیں۔میرے بھائی ، میری بہنیں ، میرے ماموں اور ان کی اولادیں انہیں بے حد عزیز تھے۔ان کی نیک رائے کو وہ بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور اس کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کرتی تھیں۔حضرت اُم المومنین کی خدمت کا بے انتہاء شوق تھا۔اوّل اوّل جب آپ کے گھر میں رہی تھیں تو ایک دو خادمہ سے اُن کو بہت تکلیف پہنچی تھی اس وجہ سے ایک دوسال کچھ حجاب رہا مگر پھر یہ حجاب دُور ہو گیا۔ہمارے خاندان میں کسی کو کوئی تکلیف ہو سب سے آگے خدمت کرنے کو مریم موجود ہوتی تھیں اور رات دن جا گنا پڑے تو اس سے دریغ نہ ہوتا تھا۔بچوں کی ولادت کے موقع پر شدید بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود زچہ کا پیٹ پکڑے گھنٹوں بیٹھتیں اور اُف تک زبان پر نہ آنے دیتیں۔انتہاء درجہ کی مہمان نوازی مہمان نواز انتہاء کی تھیں۔ہر اک کو اپنے گھر میں جگہ دینے کی کوشش کرتیں اور حتی الوسع جلسہ کے موقع پر بھی گھر میں ٹھہرنے والے مہمانوں کا لنگر سے کھانا نہ منگواتیں۔خود تکلیف اُٹھا تیں ، بچوں کو تکلیف دیتیں لیکن مہمان کو خوش کرنے کی کوشش کرتیں۔بعض دفعہ اپنے پر اس قدر بوجھ لا دلیتیں کہ میں بھی خفا ہوتا کہ آخر مہمان خانہ کا عملہ اسی غرض کے لئے ہے تم کیوں اس قدر تکلیف میں اپنے آپ کو ڈال کر اپنی صحت برباد کرتی ہو۔آخر تمہاری بیماری کی تکلیف مجھے ہی اُٹھانی پڑتی ہے مگر اس بارہ میں کسی نصیحت کا ان پر اثر نہ ہوتا۔کاش! اب جبکہ وہ اپنے رب کی مہمان ہیں ان کی یہ مہمان نوازیاں ان کے کام آجائیں اور وہ کریم میزبان اس وادی غربت میں بھٹکنے بلا کا حافظہ والی اس تنہا روح کو اپنی جنت الفردوس میں مہمان کر کے لے جائے۔امتہ الحی مرحومہ کی وفات پر لڑکیوں میں تعلیم کا رواج پیدا کر نے کیلئے میں نے ایک تعلیمی کلاس جاری کی اُس میں مریم بھی داخل ہوئیں مگر ان کا دل کتاب میں نہیں ، کام میں تھا۔وہ اس بوجھ کو اُٹھا نہ سکیں اور کسی نہ کسی بہانہ سے چند ماہ بعد تعلیم کو چھوڑ دیا۔مگر حافظہ اس بلا کا تھا کہ اُس وقت کی پڑھی ہوئی بعض عربی کی نظمیں اب تک انہیں یاد