انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 355

انوار العلوم جلد کا ۳۵۵ میری مریم سے محبت نہیں کرتا اور دوسری بیویوں سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔w سیدہ اُمم طاہر کا ایک بعض دفعہ خلوت کی گھڑیوں میں پوچھتی تھیں کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟ اور میں اس کا جواب سوال اور اُس کا جواب دیتا کہ اس جواب سے مجھے خدا تعالیٰ کا حکم روکتا ہے اور وہ ناراض ہو کر خاموش ہو جاتیں۔ہاں گزشتہ چند سال سے انہوں نے یہ سوال کرنا چھوڑ دیا تھا۔آج اگر انہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں آکر میرے دل سے نکلتے ہوئے ان شعلوں کو دیکھنے کا موقع دے جو دل سے نکل نکل کر عرش تک جاتے ہیں اور رحم کی استدعا کرتے ہوئے عرش کے پایوں سے لپٹ لپٹ جاتے ہیں تو انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کے سوال کا کیا جواب تھا۔آج اگر انہیں دُنیا میں آنے کا موقع مل جائے اور وہ میرے ذکر الہی کے وقت یہ دیکھیں کہ جب خدا تعالی کی سبوحیت بیان کرتے کرتے اُس کی پاکیزگی کا احساس میرے تن بدن کو ڈھانپ لیتا ہے تو میرے بدن پر ایک کپکپی آ جاتی ہے اور اس سبوحیت کے آخری جلوہ کے وقت میرے منہ سے بے اختیار نکل جاتا ہے کہ اے سبوح خدا! کیا میری مریم کو بھی تو پاک نہیں کر دے گا۔یا جب اُس کی حمد کا ذکر کرتے کرتے ساری دنیا میری نگاہ میں اُس کی حمد کے ترانے گانے لگتی ہے اور زمین و آسمان پر حمد ہی حمد کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے تو یکدم میرا جسم ایک جھٹکا کھاتا ہے ، میرے دل کو ایک دھکا لگتا ہے اور میری زبان پر بے اختیار جاری ہو جاتا ہے اے وہ خدا جس کی حمد ذرہ ذرہ کر رہا ہے کیا میری مریم کو تو اپنی حمد کا مورد نہیں بنائے گا۔ہاں اگر ان کی روح اس نظارہ کو دیکھ لے تو وہ کتنی شرمندہ ہوں اُس لمبی بدگمانی پر جو انہوں نے مجھ پر کی۔اے میرے رب ! اے میرے رب ! میں نے بھی ایک لمبے عرصہ تک تیرے حکم کو پورا کرنے کے لئے اپنے نفس پر جبر کیا ہے۔کیا تو اس کے بدلہ میں میری مریم کو اگلے جہان میں خوش نہیں کر دے گا۔میرے آقا ! تیری رحمت کے دامن کو چھوتا ہوں اور تیرے عرش کے سامنے جبین نیاز رگڑتا ہوں۔میری اس التجا کوسن اور اس چنگاری کو جو تو نے میرے دل میں سُلگا دی ہے ہم دونوں کے لئے کافی سمجھ اور اسے ہر آسیب اور ہر وحشت سے محفوظ رکھ۔