انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 338

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۳۸ خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو لمبا ہوا اور اُس نے ہمیں تاریک گڑھوں سے نکال کر معرفت کی روشنی میں کھڑا کر دیا لیکن اُس زمانہ کے لوگ بھی یہ خیال کرتے ہوں گے کہ نوح جیسی نعمت کے بعد اور کیا نعمت ہو گی ، کون سی برکت ہوگی جو اُس کے بعد بھی آئے گی۔وہ خیال کرتے ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی آخری نعمت ہم کو حاصل ہوگئی اب ہماری زندگیاں خوشی کی زندگیاں ہیں اب ہم علیحدگی اور تنہائی کی بدمزگیوں سے بچ گئے۔اب خدا ہمارے ساتھ ہے اور ہم خدا کے ساتھ ہیں لیکن پھر ایک زمانہ آیا جب خدا کی حکمت کا ملہ نے نوح کو اُٹھا لیا۔اُس وقت نوح کے ماننے والوں کی جو کیفیت ہو گی اُسے ہم تو سمجھ سکتے ہیں جنہیں ایک نبی کی جماعت میں شامل ہونے کا شرف حاصل ہوا مگر دوسرے لوگ اِس کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔کسی طرح چمکتا ہوا سورج اُن کے لئے تاریک ہو گیا ہوگا ، کس طرح نور والا چاند اُن کے لئے اندھیرا ہو گیا ہوگا ، کس طرح اللہ تعالیٰ کا روشن چہرہ جو ہر وقت اُن کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا اُنہیں دُھند لکے میں چھپا ہوا دکھائی دینے لگا ہوگا اور کس طرح وہ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ دنیا اب ہلاکت کے گڑھے میں گر گئی۔لیکن ابھی نوح کا پیدا کردہ ایمان لوگوں کے دلوں میں موجود تھا اُس ایمان کی وجہ سے وہ خیال کرتے ہوں گے کہ جس طرح آدم کے بعد اللہ تعالیٰ نے نوح کو کھڑا کر دیا اسی طرح شاید نوح کے بعد کسی اور کو کھڑا کر دے۔پس وہ ایک ہلکی سی امید اپنے دل میں رکھتے ہوں گے گو یہ امید اپنے ساتھ ایسا زخم رکھتی ہوگی ، ایسا درد اور اضطراب رکھتی ہوگی جس کی مثال انبیاء کی جماعتوں کے باہر اور کہیں نہیں مل سکتی۔پھر خدا تعالیٰ کے فضل نے نہ معلوم کتنے عرصے کے بعد ، کتنے تغیرات کے بعد، کتنی چھوٹی چھوٹی روشنیوں کے بعد ابراہیم کو پیدا کیا اور پھر وہی کیفیت جو نوح کے زمانہ میں لوگوں پر گزری تھی ابراہیم کے زمانہ میں دکھائی دینے لگی۔اب لوگوں کی دماغی ترقی کو دیکھ کر خدا نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ پے در پے اپنے انبیا ء لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجے چنانچہ ابراہیم کے بعد اسحاق کو ایک ملک میں اور اسماعیل کو دوسرے ملک میں کھڑا کیا گیا۔پھر یعقوب آئے پھر یوسف آئے اور یہ سلسلہ چلتا چلا گیا اور لوگ نور ہدایت سے منور ہوتے رہے۔مگر پھر ایک ایسا وقت آیا جب دنیا تاریکی کے گڑھوں میں گر گئی ، گمراہی میں مبتلا ہوگئی ، خدا تعالیٰ کے تازہ نشانوں سے