انوارالعلوم (جلد 17) — Page 337
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۳۷ خلافت کے ذریعہ خدا تعالیٰ سے وابستہ رہو یہ کلام پھر بھی دنیا میں اُترے گا اور انسان اپنے تجر بہ کا غلام ہوتا ہے۔جس وقت آدم کے ساتھی یہ خیال کرتے ہوں گے کہ آدم بھی ایک دن اس دنیا سے گزر جائے گا وہ وقت اُن کے لئے کیسا تکلیف دہ ہوتا ہوگا۔ان کے لئے کوئی مثال موجود نہ تھی کہ آدم کا قائم مقام کوئی اور آدمی بھی ہوسکتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے سارے فضلوں کو آدم میں ہی مرکوز دیکھتے تھے اور آدم سے بڑھ کر کسی اور وجود میں ان فضلوں کا مشاہدہ کرنا اُن کے نزدیک خام خیالی تھی کیونکہ اور کوئی انسان انہوں نے نہیں دیکھا تھا جو آ دم سے بڑھ کر ہوتا۔غرض آدم جس کی تعلیم کا نشان سوائے قرآن کے اور کہیں نہیں ملتا ، آدم جس کی تربیت کا نشان دنیا کی کسی تاریخ سے مہیا نہیں ہوتا وہ اُن لوگوں کیلئے اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایسا ہی ضروری تھا جیسے حیات کے قیام کے لئے ہوا اور پانی ضروری ہوتا ہے۔وہ آدم کو اپنی روحانی حیات کے قیام کا ذریعہ سمجھتے تھے اور روحانی حیات کو آدم کا نتیجہ قرار دیتے تھے مگر ایک دن آیا جب خدا کی قدرت نے آدم کو اُٹھا لیا۔آدم کے مومنوں پر وہ کیسا تکلیف کا دن ہو گا۔وہ کس طرح تاریکی اور خلا اپنے اندر محسوس کرتے ہوں گے مگر وہ نسل گزری اور اُس نسل کی نسل گزری اور اسی طرح کئی نسلیں گزرتی چلی گئیں اور آدم کی قیمت اُن کے دلوں سے کم ہو گئی یہاں تک کہ وہ اُس وجود کو بھی بھول گئے جس کی وجہ سے آدم کی قدر و قیمت تھی یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کو بھی بھلا دیا۔اُس سے قطع تعلق کر لیا اور اُن کی ساری کوششیں دنیا میں ہی محمد ود ہوگئیں۔محدود تب خدا نے نوح کو دنیا میں بھیجا۔یا کم سے کم ہمارے لئے جس شخص کے ذکر کی ضرورت سمجھی گئی ہے وہ نوح ہی ہے۔درمیان میں بعض اور وجود بھی آئے ہوں گے مگر وہ اہم وجود جس کا قرآن نے ذکر کیا نوح ہی ہے۔نوح کے زمانہ میں جو لوگ اُس پر ایمان لائے کس طرح انہیں محسوس ہوتا ہوگا کہ وہ تاریکی سے نکل کر نور کی طرف آگئے ہیں۔وہ تنہائی کی زندگی کو چھوڑ کر ایک نبی کی صحبت سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔خدا تعالیٰ کا تازہ کلام اور اُس کی پُر معرفت باتیں سن کر ان کے اندر کیسی زندگی پیدا ہوتی ہوگی، کیسا یقین پیدا ہوتا ہوگا، کتنی خوشی ہوتی ہوگی کہ کس طرح انہوں نے یہ غلط خیال کر لیا تھا کہ خدا تعالیٰ کا کلام اور اُس کا نور آب دنیا میں نہیں آئے گا۔وہ سوچتے ہوں گے کہ ہم کس طرح دنیا میں مشغول تھے کہ خدا کا ہاتھ پھر ہماری طرف