انوارالعلوم (جلد 17) — Page 295
انوار العلوم جلد کا ۲۹۵ لجنہ اماءاللہ سنجیدگی سے عورتوں کی اصلاح کرے تعدا د معلوم کرے اور جبراً اُن کو لجنہ میں داخل کرے اور جو داخل نہ ہو اُس کے متعلق سمجھ لو کہ وہ احمدی نہیں ہے۔پہلے لجنہ کا ایک ہی اجلاس ہوتا تھا جس میں سب ممبرات شامل ہوتی تھیں۔مگرسُستی طاری ہوتی گئی اور محلہ وار کام شروع ہوا اب صرف چندہ لینے تک کام محدودرہ گیا۔کئی سال سے کوئی رپورٹ میرے پاس نہیں آئی اس لئے میں یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہوں کہ کام ہوتا ہی نہیں۔میں نے اسی لئے آج تم کو جمع کیا ہے کہ اصولی ہدایات تم کو دوں۔ایک ہفتہ کے اندر اندر اپنے آپ کو منظم کر لو اور ہر احمدی عورت کو لجنہ میں شامل کرو اور پھر جمع ہو کر اپنے لئے کام متعین کرو۔بہت سی عورتیں صحیح پر دہ نہیں کرتیں۔غیر احمد یوں، بدمعاشوں کے اڈے یہاں بن چکے ہیں جن کی وجہ سے بہت بدنامی ہورہی ہے۔ایسی آوارہ عورتوں کا جس گھر میں جانا ہوگا وہ ایک غیر مرد کے آنے کے برابر ہے۔پھر عورت کا اپنے مرد کے بغیر سفر پر جانا خلاف شریعت ہے مگر مجھے معلوم ہوا کہ بعض عورتیں بغیر اپنے مرد کے بٹالہ یا امرتسر کا سفر کرتی ہیں۔پھر سینما دیکھنے سے ہم نے روکا ہوا ہے مگر محلوں کے لڑکے بعض ریلوے گارڈوں سے دوستانہ کر کے بغیر ٹکٹ سفر کرتے ہیں اور بٹالہ جا کر سینما دیکھتے ہیں۔آخر سینما والے انہیں مفت کیوں تماشہ دکھاتے ہیں؟ ظاہر ہے کہ اُن سے اُن کے دوستانہ ہوتے ہیں اور ہر دوستانہ جو جرم میں محمد ہوتا ہے خود بھی ایک جرم ہے۔اگر اُن کی مائیں اُن کی نگرانی کریں تو وہ کبھی نہ جاسکیں۔پھر قادیان میں بیسیوں ریڈیو لگے ہوئے ہیں اور گانے سُنے جاتے ہیں۔ریڈ یو خبروں کے لئے علمی وادبی مضامین کے لئے ہیں۔اگر اس دن کے بعد کوئی رپورٹ میرے پاس آئی کہ کسی نے گانا سنا ہے خواہ تم کہو کہ نعت سُنی ہے تو اس کا مقاطعہ کر دیا جائے گا۔علمی وادبی تقاریر اور خبروں کے لئے ریڈیو مفید ہے یا کوئی ادبی مضمون یا ڈرامہ جس میں گانا نہ ہو۔باقی قوالی ، نعت وغیرہ سب ناجائز ہے۔بچہ بھی آ آ کرتا ہے اور نگا پھرتا ہے قوالی گانے والے بھی آ آ کرتے ہیں اگر گانے والے آآکریں تو تم شوق سے سنو اور اگر وہ ننگے آ کھڑے ہوں تو تم اُن سے دور بھاگتی ہو۔تو گانے میں وہی حرکت جو بچے کرتے ہیں وہی گانے والے بھی کرتے ہیں۔