انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 294

انوار العلوم جلد ۷ ۲۹۴ لجنہ اماءاللہ سنجیدگی سے عورتوں کی اصلاح کرے اور اول الذکر جھوٹا۔اسی طرح ڈاکٹر کے بیٹے کے پاس لوگ نہیں جاتے حالانکہ بعض دفعہ وہ عرفاً ڈاکٹر کہلاتا ہے کیونکہ حقیقت میں ڈاکٹر نہیں۔اسی طرح لوگ معمولی عطار کے پاس جا کر علاج کرا لیتے ہیں مگر ناٹک کے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتے۔پس جب تم دنیاوی کاموں میں اتنی احتیاط کرتے ہو تو کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا اپنے کاموں میں احتیاط نہیں کرتا ؟ اگر تم سو فیصدی احتیاط کرتے ہو تو خدا تعالیٰ دوسو فیصدی کرتا ہے اور جب تم اپنے آپ کو اس قدر عقلمند سمجھتے ہو تو کیا خدا تعالى نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذلِكَ اتنا بے وقوف ہے کہ وہ تمہاری بغیر اخلاص کے نماز قبول کر لے۔تمہارے کھوٹے سے کھوٹے روپے کو صدقہ کے طور پر قبول کر لے۔اصل چیز اخلاص ہے جب تک اخلاص پیدا نہ ہو جائے تب تک ترقی ممکن نہیں۔بڑی دقت یہی ہے کہ لوگ اخلاص سے بہت دُور ہیں۔عورتیں بالعموم لفاظی کو قبول کر لیتی ہیں۔عورتیں احمدی کہلاتی ہیں لیکن سب بُرائیاں ان میں پائی جاتی ہیں حالانکہ عمل اور اخلاص کی ضرورت ہے جس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔موجودہ حالت میں مردوں کے پاس اس کے سوا کیا چارہ ہے کہ یا تو احمدی عورتیں اخلاص پیدا کریں یا پھر وہ ان کو چھوڑ دیں۔اس وقت تک ایک بھی مثال ہمارے پاس ایسی نہیں کہ مرد مُرتد ہوا ہو اور عورت بچ گئی ہو۔مردوں کے ساتھ عورتیں بھی مُرتد ہو جاتی ہیں۔جس کے یہ معنی ہیں کہ عورت کا اپنا کوئی ایمان نہیں اُس کا ایمان اُس کے خاوند کا ایمان تھا۔دس ہیں میں سے ایک عورت تو ایسی ہوتی جس کے متعلق ہم کہہ سکتے کہ اُس کا اپنا ایمان تھا۔ان کے ایمان اپنے ایمان نہیں بلکہ خاوندوں اور باپوں اور بیٹوں کے ایمان تھے۔دیگ ایک چاول سے پہچانی جاتی ہے یہ ایک نمونہ ہمارے سامنے ہے۔شاید خدا تعالیٰ نے بھی اسی لئے یہ ارتداد دکھایا کہ عورتوں کے ایمان کا پتہ لگ جائے۔جب عبدالرحمن مصری مرتد ہوا تو میرا خیال تھا کہ اُس کی بیوی شاید اُس کے ساتھ مرتد نہ ہو۔میرے اُستاد کی وہ بیٹی تھی بڑے پختہ ایمان کی عورت معلوم ہوتی تھی لیکن آخر خاوند کے ساتھ وہ بھی مرتد ہوئی۔تو یہ باتیں بتاتی ہیں کہ جو اخلاص اور ایمان چاہئے وہ ہماری عورتوں میں نہیں ہے اور اس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔میں خصو صالجنہ کو خطاب کرتا ہوں۔ہر محلہ کی لجنہ اپنے آپ کو منظم کرے اور ایک ہفتہ کے اندراند رسب جوان، بوڑھی عورتوں کو جمع کر کے ان کی