انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 286

انوار العلوم جلد کا ۲۸۶ زندگی وقف کرنے کی تحریک میں اُمید کرتا ہوں کہ جتنا وقت ان پر صرف ہوا ہے آئندہ اس سے آدھے عرصہ میں نے مبلغ تیار ہو جایا کریں گے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے ہوں گے کہ اُن میں سے کوئی جرمن زبان کا ماہر ہوگا ، کوئی فرانسیسی زبان کا ماہر ہو گا ، کوئی ڈچ زبان کا ماہر ہوگا ، کوئی اٹالین زبان کا ماہر ہوگا، کوئی روسی زبان کا ماہر ہو گا، کوئی سپینش زبان کا ماہر ہو گا اور کوئی پرتگیزی زبان کا ماہر ہو گا۔اسی طرح ہندوستان کی زبانوں میں سے کسی کو اڑیہ زبان سکھائی جائے گی ،کسی کو بنگالی زبان سکھائی جائے گی ، کسی کو مرہٹی زبان سکھائی جائے گی، کسی کو تامل زبان سکھائی جائے گی، کسی کو تلنگو زبان سکھائی جائے گی ، کسی کو سندھی زبان سکھائی جائے گی، کسی کو پشتو زبان سکھائی جائے گی تا کہ وہ ہر زبان میں کام کر سکیں اور ہر زبان کے جاننے والوں کو اسلام میں داخل کر سکیں۔پس تبلیغ کا ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ دنیا کی ہر زبان میں مہارت پیدا کی جائے اور پھر تبلیغ کی طرف توجہ کی جائے۔دوسرا ذریعہ تبلیغ کاطب ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں نے ایک طالب علم کو خاص طور پر دہلی میں طب کی تعلیم دلوائی ہے۔طب کی موٹی موٹی باتیں انسان چھ ماہ میں سیکھ کر ہزاروں لوگوں کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ابھی ہمارے ملک میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں ڈاکٹری کی بجائے دیسی طب کا علاج ہے اور انسان اگر معمولی توجہ سے بھی کام لے تو وہ طب میں مہارت پیدا کر کے کئی قسم کی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے مثلاً داڑھ درد ہے یا بخار ہے یا تلی ہے یا سردرد ہے یا قبض ہے یا کھانسی ہے یا نزلہ ان امراض کے متعلق ایسی ایسی سستی دوائیں موجود ہیں جو چند پیسوں میں تیار ہوسکتی ہیں اور بیسیوں لوگ ان سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔اگر گولیاں بنائی جائیں تو وہ بھی چند آنوں میں دو دو تین تین سو تیار ہو سکتی ہیں۔جب کسی بیمار کو ایسا شخص دوائی دے گا تو یہ لازمی بات ہے کہ فائدہ محسوس ہونے پر دوسرا شخص خدمت کرنے کی کوشش کرے گا۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک دفعہ علاج کے لئے بمبئی بلایا گیا۔آپ نے یہ سفر جہاز میں کیا تھا۔آپ فرماتے تھے کہ دوستوں نے مجھے کہا کہ آپ سیکنڈ کلاس کا ٹکٹ خرید لیں مگر میں نے کہا میں تو ڈیک کا ٹکٹ لوں گا۔جب جہاز میں سوار ہوئے تو آپ نے دیکھا کہ تمام جگہ لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔آپ نے ایک جگہ اپنا بستر بچھایا تو لوگوں نے اُسے اُٹھا کر پرے پھینک دیا۔وہ گجراتی طرز کے لوگ تھے۔آپ کو اللہ تعالیٰ نے قیافہ شناسی میں بڑا ملکہ عطا