انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 208 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 208

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۰۸ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں گزشتہ سالوں میں ہی لاہور میں سر سکندر حیات خاں نے اپنی کوٹھی پر مجھے اس غرض کے لئے بلا بھیجا کہ اگر کشمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔اُنہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آیا آپ کو ایسی میٹنگ میں شامل ہونے پر کوئی اعتراض تو نہیں؟ میں نے کہا مجھے کوئی اعتراض نہیں اور نہ مجھے سیاسیات سے کوئی دلچسپی ہے۔میں تو ایک مذہبی آدمی ہوں اور چاہتا ہوں کہ اس قسم کے جھگڑے جلد دُور ہو جائیں۔وہاں احرار کی طرف سے چوہدری افضل حق صاحب شامل ہوئے اور انہوں نے بڑے غصہ سے کہا کہ میں ان سے ہر گز صلح نہیں کر سکتا کیونکہ میں جب الیکشن کے لئے کھڑا ہوا تھا تو انہوں نے میری دو دفعہ مخالفت کی تھی۔میں نے اُن سے کہا کہ مخالفت کرنا ہر شخص کا حق ہے مگر یہ درست نہیں کہ میں نے آپ کی دو دفعہ مخالفت کی ہے۔ایک دفعہ مخالفت کی ہے اور ایک دفعہ تائید کی ہے۔سرسکندرحیات خاں بھی اِن سے کہنے لگے کہ آپ بھولتے ہیں آپ نے خود مجھے کہا تھا کہ امام جماعت احمدیہ سے چونکہ میرے دوستانہ تعلقات ہیں اس لئے میں آپ کے متعلق ان کے پاس سفارش کر دوں اور میں نے آپ کے کہنے پر سفارش کی اور انہوں نے آپ کی مدد کی۔پس یہ درست نہیں کہ انہوں نے دو دفعہ مخالفت کی ہے۔ایک دفعہ انہوں نے مخالفت کی ہے اور ایک دفعہ تائید کی ہے۔اس پر چوہدری افضل حق صاحب کہنے لگے خواہ کچھ ہوئیں نے تو فیصلہ کر لیا ہے کہ میں جماعت احمدیہ کو کچل کر رکھ دوں گا۔اسی طرح وہ غصہ میں اور بھی بہت کچھ کہتے چلے گئے میں مسکراتا رہا اور خاموش رہا۔جب وہ اپنا غصہ نکال چکے تو میں نے کہا چوہدری صاحب ! ہما را دعویٰ یہ ہے کہ ہمارا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے اگر ہمارا یہ دعویٰ جھوٹا ہے تو آپ کی کسی نے کوشش کی ضرورت نہیں خدا خود ہمارے سلسلہ کو کچل دے گا لیکن اگر یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ سلسلہ ہے تو پھر آپ کی کیا حیثیت ہے دنیا کے سارے بادشاہ مل کر بھی ہمارے سلسلہ کو کچلنا چاہیں تو وہ خود گچلے جائیں گے مگر ہمارے سلسلہ کو کچل نہیں سکتے۔اُس وقت مجلس میں نواب مظفر خان صاحب موجود تھے، شیخ محمد صادق صاحب موجود تھے ، نواب احمد یار خاں صاحب دولتانہ موجود تھے، جب مجلس ختم ہوئی تو شیخ محمد صادق صاحب چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ اُن کے گھر تک گئے اور انہیں کہا کہ چوہدری صاحب ! آپ نے اچھا نہیں کیا۔گھر پر بلا کر