انوارالعلوم (جلد 17) — Page 132
۱۳۲ انوار العلوم جلد ۱۷ بات کہتا ہے اور تم غصہ میں اُسے ماں یا بہن کی گالی دے دیتے ہو۔اگر گالی دیتے وقت تم یہ سوچو کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جگہ ہوتے تو کیا یہ گالی اُن کے منہ سے نکل سکتی تھی ، تو یقیناً تمہارے دل میں ندامت پیدا ہو گی۔اُس وقت تمہیں اس بات کا احساس ہوگا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا نہیں۔اگر میں اسی حالت میں مر گیا تو قیامت کے دن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے متعلق اللہ تعالیٰ سے یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ یہ بھی میرے جیسا ہے، اسے جنت میں داخل کر دیا جائے۔یا تم دیکھتے ہو کہ ایک شخص بھوکا مر رہا ہے اور تم اُس کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتے اور چپ کر کے وہاں سے چلے آتے ہو۔اُس وقت تمہیں سوچنا چاہئے کہ اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جگہ ہوتے تو کیا وہ اسی طرح خاموشی سے گزر جاتے اور بھوکے کی کوئی مدد نہ کرتے۔پس تم اپنی زندگی میں وہ اعمال بجا لاؤ جن کا نمونہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے سامنے رکھا ہے۔تمہارے لئے نجات کا سوائے اس کے اور کوئی ذریعہ نہیں کہ تم اپنے دل پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچو اور اپنے آپ کو انہی جیسا بنانے کی کوشش کرو۔بلکہ تمہارے لئے تو اس زمانہ میں اور بھی آسانی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ وہ تصویر جومٹ چکی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے اُس کو دوبارہ روشن کر دیا ہے۔مٹی ہوئی تصویر سے نقشہ کھینچنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر تصویر پر دوبارہ رنگ پھیر دیا جائے تو نقشہ اُتارنے میں کوئی دقت پیش نہیں آ سکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام موجودہ زمانہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو تصویر دُھندلی پڑ گئی کا ایک زندگی بخش کارنامہ تھی اور لوگوں کو نظر آنی مشکل ہوگئی تھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُسی پر رنگ پھیر کر اُس کو روشن کر دیا ہے۔پس اگر اب بھی غفلت سے کام لو، اب بھی اس تصویر کو اپنے دل پر اُتارنے کی کوشش نہ کرو، اب بھی اُس کی نقل کرنے میں کوتاہی سے کام لو تو یہ بہت بڑا گناہ ہوگا۔خدا نے ہمارے لئے ایک آسان صورت پیدا کر دی ہے۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت