انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xi of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xi

انوار العلوم جلد کا تعارف کتب سال ۲۹ فروری تک تقریر میں مذکورہ کوائف پر مبنی سالانہ رپورٹ بھجوا ئیں۔(ii) عنقریب جنگ کے اختتام پذیر ہونے کی توقع کے پیش نظر تبلیغ کے سلسلہ میں ناظر صاحب دعوة و تبلیغ نیز انچارج صاحب تحریک جدید کو مختلف زبانوں میں ضروری لٹریچر تیار کرنے کی ہدایت فرمائی۔(iii) غیر زبانوں میں تراجم قرآن کی تحریک فرمائی۔(iv) قول و عمل میں مطابقت پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔(۷) معاہدات کی تکمیل کی اہمیت بیان فرمائی۔(vi) حق شفع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔(۴) اُسوه حسنه حضرت مصلح موعود نے یہ روح پرور تربیتی خطاب مؤرخہ ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۳ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ارشاد فرمایا جسے الشرکۃ الاسلامیہ نے پہلی دفعہ افادہ عام کیلئے مورخہ ۱۲؎ دسمبر ۱۹۶۱ء کو کتابی صورت میں شائع کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے اس تقریر میں بڑے دلنشین انداز میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی کہ ہمیں اپنے ہر قول وفعل اور ہر حرکت و سکون میں یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ ہمارا کوئی کام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل کے خلاف نہ ہو کیونکہ ہماری نجات آپ کی کامل اتباع میں اور آپ کے روحانی نقوش اپنے آئینہ قلب پر پیدا کرنے میں ہے۔اگر ہم اس میں کامیاب ہو جا ئیں تو روحانی لحاظ سے ہمیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو بڑی بھاری طاقت حاصل ہو سکتی ہے اور اُخروی زندگی میں ہم نجات کے مستحق ہو سکتے ہیں۔حضور نے اس تقریر میں مسئلہ شفاعت کی حقیقت پر بھی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور کامل نجات کو شفاعت کے بغیر ناممکن قرار دیا ہے۔اسی طرح آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل پانچ اخلاق فاضلہ کو آج بھی دنیا کی ضرورت قرار دیتے ہوئے ان کو اپنے اندر پیدا کرنے کی تلقین فرمائی:۔