انوارالعلوم (جلد 16) — Page 55
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) میں خدا کی رضا کے لئے بلایا تھا یا خلافت کے حصول کے لئے ؟ اور اگر تم نے اسلام میں داخل ہو کر بڑی بڑی قربانیاں کیں تو اس لئے کی تھیں کہ خدا راضی ہو جائے یا اس لئے کی تھیں کہ خلافت ملے؟ اگر تمام قربانیاں تم نے خدا کی رضا کے حصول کے لئے کی تھیں تو خدا را! اب اپنی قربانیوں کو خلافت کی بحث میں برباد نہ کرو۔مہاجرین جو کہتے ہیں سچ کہتے ہیں مناسب یہی ہے کہ تم اس معاملہ کو خدا پر چھوڑ دو اور اپنی تجاویز کو جانے دو۔اُس صحابی کا یہ فقرہ کہنا تھا کہ ساری قوم نے شور مچا دیا، بالکل درست ہے بالکل درست ہے۔چنانچہ مہاجرین میں سے خلیفہ کا انتخاب کیا گیا اور انصار نے خوشی سے اُس کی بیعت میں اپنے آپ کو شامل کر لیا۔۳۷ یہ عجیب بات ہے کہ آج تک بھی انصار میں سے کسی کو بادشاہت نہیں ملی ، گو تصوف والے اس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اب تمہیں دنیا میں کچھ نہیں مل سکتا جو کچھ لینا ہے حوض کوثر پر آ کر لے لینا۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا قیامت کے دن کسی کو اجر ملنا کوئی کم برکت والی چیز ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ بیشک دنیوی انعامات بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہوتے ہیں مگر اصل انعام وہی ہیں جو انسان کو عالم آخرت میں ملیں۔پس اگر انہیں قیامت کے دن انعامات مل گئے تو پھر تو انہیں سب کچھ مل گیا۔لیکن بہر حال انصار نے دنیا میں کبھی حکومت نہیں کی اور یہ ایسی شاندار قربانی ہے جو بتاتی ہے کہ ان لوگوں نے کس طرح اپنے دل اسلام اور مسلمانوں کے لئے کھول رکھے تھے۔صحابہ کرام لوگوں کو شر سے محفوظ رکھنے کا ذریعہ تھے! پانچویں خصوصیت مساجد کی یہ ہے کہ وہ شر اور بدی سے عَنِ روکنے کے لئے بنائی جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ ۳ کہ نماز انسان کو بدی اور بے حیائی کی باتوں سے روکتی ہے اس بارہ میں بھی صحابہ نے بے نظیر مثال قائم کی ہے چنانچہ شر سے بچانے کا بہترین ثبوت حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد کا ایک واقعہ ہے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں نے دنیا میں کس طرح انصاف قائم کیا۔جب اسلامی لشکر رومیوں کو شکست دیتے دیتے شام تک چلا گیا تو ایک وقت ایسا آیا جبکہ رومی بادشاہ اپنا سارا لشکر جمع کر کے مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے آمادہ ہو گیا، اُس وقت اسلامی جرنیلوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کچھ علاقے چھوڑ کر پیچھے ہٹ جانا چاہئے مگر اُن علاقوں کے لوگوں سے چونکہ انہوں نے ٹیکس اور جزیے وصول کئے ہوئے تھے اور