انوارالعلوم (جلد 16) — Page 54
سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ کہ وہ یہ برداشت ہی نہیں کر سکتے وہ تو زندہ رہیں اور نبی فوت ہو جائے اس لئے نبی کے زمانہ میں خلافت کی طرف صرف اشارے کر دیے جاتے ہیں۔یہی حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کا تھا، وہ یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو جائیں گے اور وہ زندہ رہیں گے۔مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو انصار نے خلافت کے متعلق الگ مشورہ شروع کر دیا اور مہاجرین نے الگ۔انصار نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم شہر والے ہیں اور مہاجرین باہر کے رہنے والے ہیں ، اس لئے باہر سے آنے والوں کا کوئی حق خلافت میں تسلیم نہیں کیا جا سکتا ، یہ ہمارا ہی حق ہے اور لیڈر ہم میں سے ہی ہونا چاہئے۔مہاجرین کو جب یہ اطلاع ملی تو ان میں سے بھی بعض وہیں آگئے۔حضرت ابوبکر ، حضرت عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابو عبیدہ ان میں شامل تھے۔یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت ابوعبیدہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے وہاں گئے تھے بلکہ وہ اسلام میں تفرقہ پیدا ہونے کے خوف سے وہاں گئے اور انہوں نے چاہا کہ انصار کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جو مسلمانوں کے لئے مضر ہو۔غرض جب یہ وہاں پہنچے تو میٹنگ ہو رہی تھی۔مہاجرین نے کہا کہ پہلے ہماری بات سُن لو اور وہ یہ ہے کہ عرب لوگ آپ کی اطاعت کے عادی نہیں ، اگر انصار میں سے کوئی خلیفہ ہو ا تو مسلمانوں کو بہت سی مشکلات پیش آنے کا ڈر ہے اس لئے مکہ کے لوگوں میں سے آپ جس کو چاہیں اپنا امیر بنالیں مگر انصار میں سے کسی کو نہ بنائیں۔اس پر ایک انصاری نے کہا کہ اگر آپ لوگ ہماری بات نہیں مانتے تو پھر مِنَّا اَمِيرٌ وَ مِنْكُمْ اَمِیرٌ چلو ایک خلیفہ ہمارا ہو جائے اور ایک آپ کا۔حضرت ابو بکر نے اس کے نقائص بیان کئے اور آخر میں فرمایا کہ اگر انصار میں سے کوئی خلیفہ ہوا تو عرب کے لوگ اسے نہیں مانیں گے۔اس پر بعض انصار جوش میں کھڑے ہو گئے اور انہوں نے کہا اس کے معنے یہ ہیں کہ انصار ہمیشہ غلامی ہی کرتے رہیں ؟ وہ اس وقت بھی مہاجرین میں سے کسی کو خلیفہ مان لیں اور بعد میں بھی مہاجرین میں خلیفہ بنتے رہیں، انصار میں سے کوئی خلیفہ نہ بنے اور اس طرح وہ ہمیشہ کے لئے غلام اور ماتحت رہیں۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یہ سُن کر انصار کو بہت سی نصیحتیں کیں اور فرمایا ہم آپ لوگوں کا احسان مانتے ہیں، مگر آپ کو اِس وقت یہ دیکھنا چاہئے کہ اسلام کا فائدہ کس بات میں ہے؟ یہ سُن کر ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک تقریر کی جو اسلامی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔انہوں نے انصار کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا اے لوگو ! تم نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ