انوارالعلوم (جلد 16) — Page 562
۸۹ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام کو مقابلہ اس وقت اس قدر نہ تھا جو اب ہے۔مقابل کی حکومتیں اس طرح ہمسایہ ملکوں کی دولت کو با قاعدہ نہ ٹوٹتی تھیں جیسا کہ اب ٹوٹتی ہیں اس لئے ہم مانتے ہیں کہ وہ انتظام آج کا رگر نہیں ہو سکتا لیکن اصولی لحاظ سے وہ تعلیم آج بھی کارگر ہے۔اس وقت بغیر اس کے کہ کوئی نیا طریق ایجاد کیا جا تا اسی آمدن سے جو مقررہ ٹیکسوں یا طوعی چندوں سے حاصل ہوتی تھی گزارہ چلایا جا سکتا تھا پس اس وقت اسے کافی سمجھا گیا مگر وہ انتظام آج کافی نہیں ہوسکتا۔آجکل کا زمانہ منظم زمانہ ہے اس وقت دنیا کی بے چینی کو دیکھ کر حکومتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک کی بیشتر دولت ان کے ہاتھ میں ہوا اور اگر مذکورہ بالاتحریکیں کامیاب ہوئیں یعنی ان میں سے کوئی ایک کامیاب ہوئی تو لازماً افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور حکومتوں کے ہاتھ میں زیادہ چلا جائے گا۔بالشوزم کامیاب ہو تب بھی اور شوشلزم کا میاب ہو تب بھی نتیجہ یہی ہو گا کہ افراد کے ہاتھ میں روپیہ کم رہ جائے گا اور ملک کی بیشتر دولت پر حکومت کا قبضہ ہو جائے گا لیکن علاوہ مذکورہ بالا نقائص کے جو اوپر بیان ہو چکے ہیں یہ نقصان بھی ہو گا کہ گو بعض ممالک زیادہ امن میں آ جائیں گے مگر بعض دوسرے ممالک زیادہ دُکھ میں پڑ جائیں گے۔موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے پیش نظر غرباء کو اس نظام کے مقابلہ میں اسلامی تعلیم کو معین صورت دینے آرام بہم پہنچانے کے لئے ایک نئے نظام کی ضرورت کے لئے جو جامہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کے لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا وہ آج یقیناً کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ اب حالات مختلف ہیں۔اسی طرح بعد میں حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے ان احکام کو جو صورت دی تھی وہ آج کامیاب نہیں ہو سکتی پس ضرورت ہے کہ اس موجودہ دور میں اسلامی تعلیم کا نفاذ ایسی صورت میں کیا جائے کہ وہ نقائص بھی پیدا نہ ہوں جو ان دُنیوی تحریکوں میں ہیں اور اس قدر روپیہ بھی اسلامی نظام کے ہاتھ میں آ جائے جو موجودہ زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے مساوات کو قائم رکھنے اور سب لوگوں کی حاجات کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے۔خلفاء نے اپنے زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے اسلام کے احکام کی تعبیر کی جیسے میں نے بتایا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں با قاعدہ مردم شماری ہوتی تھی ہر شخص کا نام رجسٹروں میں درج ہوتا تھا اور اسلامی بیت المال اس امر کا ذمہ دار ہوتا تھا کہ ہر شخص کی جائز ضروریات