انوارالعلوم (جلد 16) — Page 561
ΑΛ انوار العلوم جلد ۱۶ یہ طریق اس زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے بالکل کافی تھا۔نظام نو خلفائے اسلام کے زمانہ میں منظم طور پر غرباء جب حکومت زیادہ پھیلی اور خلفاء کا زمانہ آیا تو اس وقت منظم رنگ میں غرباء کی کی ضروریات کو پورا کرنے کی جدو جہد ضروریات کو پورا کرنے کی جدوجہد کی۔جاتی تھی چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ایسے رجسٹر بنائے گئے جن میں سب لوگوں کے نام ہوتے تھے اور ہر فرد کے لئے روٹی اور کپڑا مہیا کیا جاتا تھا اور فیصلہ کیا جاتا تھا کہ فی مرد اتنا غلہ، اتنا گھی ، اتنا کپڑا اور اتنی فلاں فلاں چیز دی جائے۔اسی طرح ہر شخص کو چاہے وہ امیر ہو یا غریب اس کی ضروریات زندگی مہیا ہو جاتی تھیں اور یہ طریق اس زمانہ کے لحاظ سے بالکل کافی تھا۔آج دنیا یہ خیال کرتی ہے کہ بالشوزم نے یہ اصول ایجاد کیا ہے کہ ہر فرد کو اس کی ضروریات زندگی مہیا کی جانی چاہئیں حالانکہ یہ طریق اسلام کا پیش کردہ ہے اور حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اس پر منتظم رنگ میں عمل بھی کیا جا چکا ہے بلکہ یہاں تک تاریخوں میں آتا ہے کہ شروع میں حضرت عمرؓ نے جو فیصلہ کیا تھا اس میں ان چھوٹے بچوں کا جو شیر خوار ہوں خیال نہیں رکھا گیا تھا اور اسلامی بیت المال سے اُس وقت بچے کو مددمانی شروع ہوتی تھی جب ماں بچے کا دودھ چھڑا دیتی تھی۔یہ دیکھ کر ایک عورت نے اپنے بچے کا دودھ چھڑا دیا تا کہ بیت المال سے اس کا بھی وظیفہ مل سکے۔ایک رات حضرت عمرؓ گشت لگا رہے تھے کہ آپ نے ایک جھونپڑی میں سے ایک بچے کے رونے کی آواز سُنی حضرت عمر اندر گئے اور پوچھا کہ یہ بچہ کیوں رو رہا ہے۔اس عورت نے کہا عمر نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ جب تک بچہ دودھ پینا نہ چھوڑے اس کا وظیفہ نہیں لگ سکتا اس لئے میں نے اس بچے کا دودھ چھڑا دیا ہے تا کہ وظیفہ لگ جائے اور اسی وجہ سے یہ رورہا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے اپنے دل میں کہا واہ عمر معلوم نہیں تُو نے کتنے عرب بچوں کا دودھ چھڑوا کر آئندہ نسل کو کمزور کر دیا ہے چنانچہ اس کے بعد انہوں نے حکم دے دیا کہ پیدائش سے ہی ہر بچے کو وظیفہ ملا کرے۔پس اُس وقت یہ انتظام تھا اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ انتظام اس وقت کی ضروریات اور اس زمانہ کے لحاظ سے کافی تھا۔ہاں یہ درست ہے کہ اس زمانہ میں غربت اور امارت میں وہ بعد نہ تھا جو اب ہے۔اس وقت مقررہ ٹیکس اور حکومت اور افراد کو صاحب دولت لوگوں کی بر وقت امداد ان اغراض کو پورا کر دیتی تھی۔تجارتی