انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 556

۸۳ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو پیدا کرنے والی حکومتیں ہمسائیوں کو لُوٹنے سے باز نہیں رہ سکتیں لیکن یکساں سادگی پیدا کرنے والی حکومتیں دوسروں کو لوٹنے کی جگہ اپنے اُمراء کو سادہ زندگی کی طرف لانے کی کوشش کریں گی اور یہ بھی ظاہر ہے کہ سادہ زندگی کو محدود کرنا آسان ہے لیکن تعیش کو محدود کرنا بہت مشکل ہے۔پس اسلامی تعلیم یقینا عقلی طور پر کامیابی کے زیادہ قریب ہے اور اس طرح اسلام تھوڑے سے روپیہ سے کام لے کر غرباء کی بے چینی دور کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔غرض آجکل کی حکومتیں سمجھتی ہیں کہ آرام کے معنے یہ ہیں کہ تعیش کے سامان غریبوں کو دینا اور اسلام کہتا ہے کہ آرام کے معنی یہ ہیں کہ ضرورت کے سامان غریبوں کو دینا اور تعیش کے سامان امیروں غریبوں سب سے چھیننا، پس جتنے روپیہ سے عیسائیت دنیا کو آرام پہنچا سکے گی اس سے بہت کم روپیہ سے اسلام دنیا کو آرام پہنچا سکے گا۔چنانچہ اسلام میں مردوں کے لئے ریشم پہننا منع ہے، اسی طرح گھروں میں استعمال کے لئے چاندی سونے کے برتن رکھنا ناجائز ہے، بڑی بڑی عمارتیں بلا وجہ اور بلا ضرورت بنانا منع ہے اسی طرح عورتوں کے لئے زیادہ زیور بنانے اسلام نے منع کر دیئے ہیں ، شراب سے روک دیا ہے ، جوئے کو حرام قرار دیا ہے تاکہ غریبوں کے دلوں میں ان چیزوں کے حصول کی کوئی خواہش ہی پیدا نہ ہو اور اس طرح جو روپیہ بچے وہ غریبوں کو دے دیا جائے۔اسلام میں جبری ٹیکسوں کے علاوہ طوعی دوسری تجویز اسلام نے یہ کی ہے کہ بجائے انفرادی جد وجہد کو مٹانے کے اسے قائم طور پر زائد مال وصول کرنے کی صورت رکھ کر اور جبر کی جگہ تحریک و تحریص سے کام لے کر علاوہ جبری ٹیکسوں کے اُمراء سے ان کے زائد مال لینے کی صورت پیدا کی ہے اور ظاہر ہے کہ انفرادیت کو مٹا دینا بھی مضر ہے کیونکہ اس سے عائلیت کے اعلیٰ جذبات اور علمی ترقی مٹ جاتی ہے اور جبری حصول بھی مضر ہے اگر کوئی ایسی سکیم ہو کہ انفرادیت بھی قائم رہے اور زائد مال تحریک و تحریص سے لے لیا جائے تو وہی سکیم دنیا میں امن کے قیام کا دور لانے کا ، سب کے لئے آرام پیدا کرنے کا اور با ہمی الفت و محبت بڑھانے کا ذریعہ ہو گی چنانچہ اسلام ایسا ہی کرتا ہے۔غیر اسلامی تحریکات میں تو یہ قانون ہے کہ ہر شخص کے پاس جس قدر زائد مال ہو وہ جبر وتشد د سے لے لو مگر اسلام کہتا ہے کہ تم کسی پر جبر نہ کرو جو جبری ٹیکس ہیں وہ تو جبر سے وصول کر و مگر اُمراء سے ان کے