انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 555

۸۲ نظام تو انوار العلوم جلد ۱۶ ہو کہ سب کے لئے یکساں تعیش کے سامان پیدا کئے جائیں، سب کے لئے سینما میں جانے کے راستے کھلے ہوں ، سب کے لئے کھیلیں اور تماشے دیکھنے ممکن ہوں مگر اسلام نے آرام کی زندگی کا مفہوم یہ لیا ہے کہ امیروں کو بھی ان تعقیش کے سامانوں میں نہ پڑنے دیا جائے اور اس طرح بنی نوع انسان کو مساوات کی طرف لایا جائے۔اصل غرض تو آرام ہے مگر اسلام آرام کے ساتھ ہی اخلاق اور معیارِ شرافت کو بھی بلند کرنا چاہتا ہے۔پھر آرام کے متعلق اسلام اور ان تحریکات کے نظریوں میں یہ بھی فرق ہے کہ انہوں نے تعیش کے سامان بڑھا کر آرام حاصل کرنا چاہا ہے اور اسلام کہتا ہے کہ ہم تمہیں صرف ضروریات زندگی دیں گے تعیش کی چیزیں نہیں دیں گے گویا وہ تعیش کے سامانوں کی بجائے سب کے لئے یکساں سادہ زندگی پیش کرتا ہے اسی لئے اسلام نے ناچ گانے اور شراب وغیرہ کو حرام قرار دیا ہے۔انگلستان میں جب غرباء شور مچاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں بڑی تکلیف ہے تو دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہم غریبوں کو شراب کے صرف دو گلاس پینے کو ملتے ہیں اور امیر آدمی دس دس گلاس شراب پی جاتا ہے اور گورنمنٹ کہتی ہے کہ تمہارا مطالبہ بالکل بجا اور درست ہے ہم تمہیں بھی دس دس گلاس شراب مہیا کر کے دیں گے مگر اسلام کہتا ہے کہ ہم تمہاری اس شکایت کا اس رنگ میں ازالہ کریں گے کہ تمہارے دو گلاس بھی چھین لیں گے اور امیروں کے دس گلاس بھی چھین لیں گے کیونکہ یہ چیزیں جسم اور روح کے لئے مضر ہیں۔اسی طرح وہاں اگر غرباء شور مچائیں تو کہتے ہیں کہ یہ امیر تو روز ناچتے ہیں مگر ہم غریبوں کے ناچنے کا کوئی سامان نہیں اور حکومت کہتی ہے بہت اچھا آئندہ گورنمنٹ خود تمہارے لئے ڈانس روم بنائے گی چنانچہ وہ امیروں سے کہتی ہے امیر و! لاؤ روپیہ کہ ہم تمہارے غریب بھائیوں کے لئے بھی ناچ گھر بنوا دیں مگر اسلام کہتا ہے ہرگز نہیں ڈانس روم بنانے سے انسانیت تباہ ہوتی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ تمہاری انسانیت میں نقص واقع ہو اس لئے بجائے اس کے کہ ہم تمہارے لئے ڈانس روم بنا ئیں ہم تمہارے امیر بھائیوں کے ڈانس روم بھی گرا دیں گے تا کہ وہ بھی انسانیت کے حلقہ میں داخل ہوں اور تہذیب و شائستگی کے خلاف کسی حرکت کے مرتکب نہ ہوں۔اسلام کا تعیش کے سامانوں کو مٹا کر تو جو چیز میں ضروریات زندگی میں سے نہیں بلکہ تعیش کے سامانوں میں سے ہیں اسلام نے امراء اور غرباء میں مساوات قائم کرنا اُن کو مٹا کر غرباء اور امراء میں مساوات قائم کی ہے اور ظاہر ہے کہ یکساں تعیش کے سامان