انوارالعلوم (جلد 16) — Page 537
انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو ملے تو تو اُسے لے لے اور کھا جا کیونکہ اگر تو نہیں کھائے گا تو تیرا بھائی بھیڑیا اُسے کھا جائے گا۔اُس نے کہايَا رَسُولَ اللهِ ! اگر جنگل میں اُونٹ مل جائے تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا تیرا اونٹ سے کیا تعلق ہے؟ اونٹ کا کھانا درختوں پر اور اُس کا پانی اُس کے پیٹ میں ہے تو اس اونٹ کا کیا لگتا ہے تو اُسے پھرنے دے۔اُس نے کہا یا رَسُولَ اللهِ ! اگر کہیں گری پڑی کوئی تھیلی مجھے مل جائے تو پھر کیا حکم ہے؟ آپ نے فرما یا تھیلی ملے تو اُسے اُٹھا لو اور لوگوں میں اس کے متعلق متواتر اعلان کرتے رہو جب اُس کا مالک مل جائے تو اُسے دیدو۔پس ہر گری پڑی چیز کے لئے الگ الگ قانون ہے۔بکری اور مرغی چونکہ ایسی چیزیں ہیں جنہیں جانو رکھا جاتے ہیں اس لئے اگر ان کا مالک نہ ملے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ انہیں پانے والا اپنے استعمال میں لے آئے۔لیکن جو باقی چیزیں ہیں ان میں سے جو حفاظت سے رہ سکتی ہیں ان کے متعلق حکم دیا کہ انہیں ہاتھ مت لگاؤ اور جو حفاظت سے نہیں رہ سکتیں ان کے متعلق حکم دیا کہ انہیں اُٹھا تو لو مگر متواتر لوگوں میں اعلان کرتے رہو اور پھر ان کے اصل مالک تک انہیں پہنچا دو۔تو اسلام نے رگری پڑی چیزوں کے متعلق نہایت پر حکمت احکام دیئے ہیں مگر اب یورپین اقوام کا اصول یہ ہے کہ جو لا وارث ، کمزور قوم ہو اس پر قبضہ کر لو۔اس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ ہمیں گرا پڑا مال مل گیا ہے۔آسٹریلیا کتنا بڑا ملک ہے اس کے متعلق یورپین لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہمیں لا وارث مال مل گیا ہے، ہندوستان کی حکومت کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ہمیں لاوارث مل گیا ہے، شمالی امریکہ کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ ہمیں لا وارث مل گیا ہے، جنوبی امریکہ کے متعلق کہتے ہیں یہ ہمیں لاوارث مل گیا ہے۔غرض پانچواں نظر یہ یورپین اقوام کا یہ ہے کہ نیا دریافت کردہ ملک جو بھی دریافت کر لے یا کمزور حکومت جہاں بھی ہو وہ پہلے پہنچنے والے کی ہے۔ان اصول کے علاوہ جن کی وجہ سے دنیا میں ظلم ہو رہا ہے کچھ عملی خامیاں بھی اس ظلم کی ذمہ دار ہیں۔لوگوں پر ظلم روا رکھنے والی عملی خامیاں پیلی علی خام تو یہ ہے کہ معذور و مجور کا ذمہ دار کسی محکمہ کو قرار نہیں دیا جاتا رہا گو اب اس کی بعض ممالک میں تدریجاً اصلاح ہو رہی ہے اور بعض محکمے ایسے بنے ہیں جن کے ذریعہ اس کوتاہی کا ازالہ کیا جاتا ہے مگر اب بھی انہوں نے جونٹی سکیم بنائی ہے وہ اسلامی تعلیم کو نہیں پہنچتی۔دوسرے ایسے راستے کھلے رکھے گئے تھے جن سے بعض افراد کے ہاتھ میں تمام دولت آ جائے۔