انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 486

انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو کر و ہوسکا تو میں کر دوں گا اُتنی ہی وہ لجاجت اور خوشامد کرتی چلی جاتی تھی۔میں نے سمجھا کہ شاید اس کی کسی لڑکی یا لڑکے کی شادی ہوگی اور اس کے لئے اُسے تمہیں چالیس روپوؤں کی ضرورت ہوگی مگر جب میں نے بہت ہی اصرار کیا اور کہا کہ آخر بتاؤ تو سہی تمہیں ضرورت کیا ہے؟ تو وہ کہنے لگی مجھے فلاں ضرورت کے لئے آٹھ آنے چاہیں۔میں آج تک اس کا اثر نہیں بُھولا کہ کس قدر اُس نے لمبی تمہید بیان کی تھی ، کس قدر لجاجت اور خوشامد کی تھی اور پھر سوال کتنا حقیر تھا کہ مجھے آٹھ آنے دے دیئے جائیں۔یہ بات بتاتی ہے کہ اس کے نزدیک دو باتوں میں سے ایک بات بالکل یقینی تھی۔یا تو وہ یہ بجھتی تھی کہ کوئی شخص جس کی جیب میں پیسے ہوں وہ کسی غریب کے لئے آٹھ آنے دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہو سکتا اور یا پھر کنگال ہونے کی وجہ سے وہ سمجھتی تھی کہ دُنیا میں ایسا خوش قسمت انسان کوئی شاذ و نادر ہی مل سکتا ہے جس کے پاس آٹھ آنے کے پیسے ہوں۔ان دونوں میں سے کوئی سا نظریہ لے لو کیسا خطرناک اور بھیانک ہے۔اگر اُس کے دل میں یہ احساس تھا اور یہی احساس اور غرباء کے دل میں بھی ہو کہ ہمیں خواہ کیسی شدید ضرورتیں پیش آئیں کوئی شخص ہمارے لئے آٹھ آنے تک خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوسکتا تو اُن کے دلوں میں اُمراء کا جتنا بھی کینہ اور بغض پیدا ہو کم ہے۔اور اگر غرباء کی حالت اس قدر گر چکی ہو کہ وہ اپنے سامنے دوسروں کو اچھا کھانا کھاتے اور اچھے کپڑے پہنتے ہوئے پھر یہ خیال کریں کہ اب کسی کے پاس آٹھ آنے بھی نہیں ہیں اور اگر کسی کے پاس آٹھ آنے ہیں تو وہ بہت بڑا خوش قسمت انسان ہے تو یہ دنیا کے تنزل کے متعلق کیسا خطر ناک نظریہ ہے۔غریبوں کی بہبودی کیلئے مختلف تحریکات کا آغاز ڈیما کریسی یہ حالت بہت دیر سے چلی آرہی ہے اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے لوگوں نے اس کی اصلاح کی کوشش بھی کی ہے مگر اب تک کوئی تغیر پیدا نہیں ہوا۔اٹھارھویں صدی کے آخر سے اس کے متعلق علمی طور پر زیادہ چر چا شروع ہو گیا اور اس احساس بیداری نے جو شکل پہلے اختیار کی دُنیا نے اس کا نام ڈیما کریسی (DEMOCRACY) رکھا۔یعنی فیصلہ کیا کہ یہ غربت افراد نہیں مٹا سکتے بلکہ حکومت ہی مٹا سکتی ہے۔جیسے میں نے ابھی کہا ہے کہ لاہور یا دہلی میں بیٹھے ہوئے ایک فرد کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ ۱۳